92

عید قربان اور دیسی لبرلز

‏تحریر: ملک محمد اسد
‎@Asadyaat
سب سے پہلے تو واضح کرتا چلوں کہ میں لبرل ازم کے خلاف نہیں کیونکہ دنیا کو آج سے چودہ سو سال قبل لبرل ازم کا پہلا تحفہ خود اسلام نے دیا، جس نے محکوم کو حاکم سے سوال کرنے کا حق دیا، عورت کے حقوق تاریخ انسانی میں پہلی بار وضع ہوئے اور عورت کو بھی صحیح معنوں میں انسان سمجھا گیا، حتیٰ کہ جانوروں تک کے حقوق وضع کئے گئے،
اس لئے اللہ کی دی گئی حد میں لبرل ہونا کچھ برا نہیں،
اب آتے ہیں اس طرف کہ دیسی لبرلز اور عید یہ کیسا عنوان ہے؟ تو یہ چند مٹھی بھر پاکستانی جو خود کو لبرلز کہتے ہیں ان سے بڑا منافق صفحہ ہستی پر کوئی نہیں، یہ در اصل صرف ان چیزوں پر تنقید کرتے ہیں جو اسلام میں ہیں یا ایسی چیزیں جو یہ خود اپنے آپ اسلام سے جوڑ لیتے ہیں، انکی منافقت کی مثال میں ساتھ ساتھ دیتا جاتا ہوں،
رہبانیت میں عورت سے شادی کرنے کا حق چھین لیا جاتا ہے، لیکن آپ کبھی کسی لبرل کو اس پر تنقید کرتے نہیں دیکھیں گے، بس یہ تنقید ہوگی کہ اسلام عورت کو پردہ کیوں کراتا ہے، اسلام عورت کو گھر سے کیوں نہیں نکلنے دیتا، برہنہ کیوں نہیں گھومنے دیتا وغیرہ وغیرہ، وہیں انہیں سر سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی رہبائیں یا ہندو مندروں کی داسیاں کبھی نظر نہیں آئیں گی (یہاں میرا مقصد کسی بھی مذہب پر تنقید نہیں، فقط موازنے کے لئے لبرلز کی منافقت واضع کر رہا ہوں)، ایک اور مثال لے لیں کہ جب کسی مدرسہ کا کوئی نام نہاد مولوی کسی بچے کے ساتھ منہ کالا کرتا پکڑا جائے تو یہ لٹھ لے کر اسلام کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں حالانکہ ہم. خود بحیثیت مسلم اس نام نہاد مولوی کو کھری کھوٹی سنانے میں کسر نہیں چھوڑتے، پھر وہیں اسی درندے کو اسلامی قوانین کے مطابق سزا دینے کی تجویز دی جائے تو یہی چند مٹھی بھر لوگ اس کے حق میں شور مچا رہے ہوتے ہیں، اور دوسری طرف چرچ کا سکینڈل لیک ہوجائے جہاں عورتوں و بچوں کے ساتھ زیادتی کا منظم گروہ سامنے آجاتا ہے تو ان کو چپ لگ جاتی ہے، ان کا مقصد دراصل صرف اور صرف اسلام پر تنقید کرنا ہے، بہانہ کوئی بھی ہو، پھر یہ جان بوجھ کر ان معاملات پر تنقید کریں گے جن پر عوام جذباتی ہے، اس کی بھی وجہ ہے، کہ یہ ایک جذباتی معاملہ پر غیر دانشمندانہ موقف دیں گے، اور عوام ان کو برا بھلا کہے گی، پھر کسی کا بھی کمنٹ دکھا کر یہ واویلا کریں گے کہ دیکھیں پاکستانی تو انتہا پسند ہیں، پاکستان تو غیر محفوظ ہے.
ہر انسان کی زندگی میں کچھ پہلو انتہائی نازک ہوتے ہیں جن پر وہ کسی کی ناگوار بات سننا برداشت نہیں کرتا، مثلاً آپ شریف سے شریف انسان کو گالی دیں گے تو ردعمل آنا لازم ہے، اسی طرح آپ کسی قوم کے مذہب یا عقیدہ کو گالی دیں گے یا تنقید کریں گے اور اس پر ظلم یہ کہ پھر بھی یہ مطالبہ کریں گے کہ لوگ آپ کو اسی عقیدہ اور مذہب کا پیروکار مانیں تو معاشرے ایسے کام نہیں کرتے، انگریزی کی ایک کہاوت کا ترجمہ ہے کہ تمہاری آزادی وہاں تک ہے جہاں تک تمہاری چھڑی میری ناک کو نہیں چھوتی، لیکن یہاں ناک پر چھڑی مار کر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ سامنے والا پھولوں کے ہار پیش کرے گا،
یہ مغربی تربیت یافہ دیسی لبرلز جو خود کو انگریز سمجھتے ہیں، اسی معاشرے کو گالم گلوچ کر کے اسی معاشرے میں اعلیٰ مقام پر رہنا چاہتے ہیں. اب حالیہ مثال لیں کہ عید قربان پر تنقید کرنے میں کچھ نام نہاد صحافی جیسے غریدہ فاروقی بھی پیش پیش رہیں اور جواب آنے پر پاکستانیوں کی اکثریت کو ذہنی بیمار اور انتہا پسند قرار دے دیا،
بی بی یہ ذہنی بیمار نہ ہوتے تو آج تمہارا نام نہ ہوتا، کہ ان کی ذہنی بیماری یہ نہ دیکھ سکی کہ تم کس طریقہ اور کس کی ایما پر یہاں تک پہنچی اور اس ذہنی بیماری کا نام عورت کی عزت کرنا ہے جو ہمارا معاشرہ ہمیں سکھاتا ہے جس کا درس ہمارا دین ہمیں دیتا ہے، لیکن وہی دین ہمیں اپنے وطن اور دین پر مر مٹنے کا جذبہ بھی عطاء کرتا ہے سو یہ تو بھول ہی جاؤ کہ پاکستانی عوام اپنے وطن اور دین پر حملے کا جواب نہ دیں گے، جواب ملے گا اور دلیل کے ساتھ ملے گا “ان شاء اللہ”
ہر سال نہیں ماہ نہیں ہر دن بلکہ ہر گھنٹے کتنے جانور ذبح یا قتل ہوتے ہیں فاسٹ فوڈ چینز پر؟ جو امیروں کو کھلا کھلا کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں، ان کے خلاف بولتے آپکو شرم آتی ہے؟ جبکہ وہ عید قربان جس پر قربانی خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے غریبوں کا پیٹ بھرنے کو کی جاتی ہے اس پر آپ کو تکلیف ہے، لیکن نہیں نہیں فاسٹ فوڈ چینز کے خلاف بولنے پر نہ تو سستی شہرت ملتی پے، نا مغرب میں پزیرائی اور یہ لوگ تو ضمیر کی دکانیں لگا کے بیٹھے ہیں جو بولی اچھی دے گا اسی کو کرایہ پر دیں گے، یہ ضمیر بیچتے نہیں، بالکل بھی نہیں صرف کرایہ پر دیتے ہیں، جس طرح آج کل میر جعفر و میر صادق و کردوغلو کے روحانی بیٹے ایک میر صاحب کر رہے ہیں، ویسے تو غداری میں ان کے باپ بھی کم نہیں تھے اوپر والے ناموں سے لیکن یہ بھی اپنا الگ مقام رکھتے ہیں
پاکستان میں یہ مافیا آج کل کچھ زیادہ ہی طاقتور ہوتا جا رہا ہے، اور انکو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے
بطور عام پاکستانی شہری ہم اس مافیا کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور متبادل بیانیہ کی ترویج ہر معاملے اور ہر سطح پر جاری رکھیں گے، ان کو ایکسپوز کرتے رہیں گے “انشاء اللہ”، لیکن اب بہت ہو چکا اب ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا، اگر تو یہ ملک واقعی اسلامی جمہوریہ ہے تو یہاں اسلام بیزار لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں یا کم از کم ایسے اسلام بیزار موقف کی ترویج پر ہی پابندی ہونا چاہیے تا کہ عوام کے جذبات مجروح نہ ہوں
فیصلہ اب ریاست کو کرنا ہے کیونکہ عوام فیصلہ کئے بیٹھے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں