82

مؤثر حکمرانی اورعدالتی نظام ۔۔۔۔۔۔ خوشحال پاکستان کے لئے کتنا اہم ہے

تحریر: حافظ احسان احمد کھوکھر
ریاست مدینہ کی بنیاد بھی قانون کی حکمرانی اور تیزرفتارانتظامی انصاف کی فراہمی پرمبنی تھی جس نے اسے اس وقت کی ایک عظیم ابھرتی ہوئی ریاست بنادیا تھا۔ جدید دنیا میں بھی کوئی بھی ریاست مؤثر اور تیزرفتارحکمرانی اورعدالتی نظام کے بغیر قائم اورخوشحال نہیں ہوسکتی۔ کوئی بھی ریاست تیزرفتار، سستی اوربروقت انتظامی اور قانونی انصاف کے بغیرترقی اور خوشحالی نہیں کرسکتی۔ تاہم پاکستان کو برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی اور عدالتی نظام ورثے میں ملا تھا اور پہلے دن سے ہی یہ کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے اور آزادی کے بعد سے اس پرانی اور فرسودہ حکمرانی اور عدالتی نظام کو حقیقی معنوں میں مکمل طور پر بہتر بنانے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی ہے جوآزاد شہری کے لئے نہیں بلکہ براعظم کے غلاموں کے لئے ڈیزائن اور نافذ کیا گیا تھا اور یہ تاریخ سے ثابت ہوا ہے۔
یہ ہمیشہ بہت اہم ہے کہ حکمرانی اور عدالتوں کا نظام اس طرح کام کرے کہ جب شہری سرکاری محکموں یا عہدیداروں کے ساتھ ان کے عوامی معاملات یا شکایات سے متعلق بات چیت کریں تو انہیں اس وقت بھی مطمئن ہونا چاہئے جب ان کے قانونی معاملات عدالت میں فیصلہ سازی کے لئے اور کم سے کم وقت میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے ذریعے میرٹ پر پہنچ جائیں۔تاہم یہ سب کچھ پاکستان میں شرمندہ تعبیر نہیں ہورہا ہے، باوجود اس کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس خطے کے عوام کے لئے آزادی کے خواب دیکھے اور جدوجہد کی۔ شہریوں میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ وہ موجودہ نظام حکمرانی سے تنگ آچکے ہیں اور وہ فوری فراہمی کے ساتھ مجموعی طور پر تبدیلی چاہتے ہیں مزید برآں شہری مایوسی کا شکار رہے ہیں اور یہاں تک کہ وہ اپنی تقریبا پوری زندگی سرکاری محکموں اور ایک عدالت سے دوسری عدالت تک انصاف کے حصول میں گزاردیتے ہیں۔
پاکستان حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے شعبوں میں دنیا کے کم ریٹنگ والے ممالک میں شامل ہے اور سول و فوجداری انصاف، کھلی حکومت اور سرکاری اختیارات کی رکاوٹوں کے بارے شائع شدہ حالیہ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے دیگر چھ ممالک میں سے اسے چوتھا مقام ہے۔ہر سال ان شعبوں میں پاکستان کی ریٹنگ کو پوری دنیا میں ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی کم ہوئی ہے۔ پالیسی سازوں اور مقننہ کے لئے یہ صورتحال تشویشناک ہونی چاہئے اور اس کی اصلاح کے لئے نچلے سے اعلیٰ نظام تک فوری سنجیدہ کارروائی کی ضرورت ہونی چاہئے۔یہ ایک ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے روشن اور پراعتماد مستقبل کے لئے حکمرانی اور عدالتی نظام کی اوور ہالنگ/ بہتری کے لئے قیادت کرے۔
موجودہ حکمرانی کا نظام اتنا پیچیدہ، ناقص اور فرسودہ ہے کہ سالہا سال عام آدمی کے لئے انتظامی اور عدالتی انصاف کے حصول میں گزرجاتے ہیں۔ اس نے عام طور پر ریاستی اداروں پر شہریوں کا اعتماد اور ساکھ کو کھو دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ تاخیر، قانونی سمجھوتے، بے لگام صوابدید اور حکمرانی میں بے ضابطگیاں جاری رکھنے کے مواقع پیدا کرنے کی علامت بن چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مافیا کو قانون کی بالادستی کے خلاف تحفظ حاصل ہے، پاکستان نے حکمرانی، حقوق کے نفاذ، معاشی اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بہت سے شعبوں میں ناقص درجہ حاصل کیا ہے۔
موجودہ حکمرانی اور عدالتی نظام نے ہماری حکمرانی اور قانونی ساکھ کی درجہ بندی کو مزید کمزور کر دیا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق تقریبا ہر بین الاقوامی معاہدے میں پاکستانی دائرہ اختیار اور مقامی قوانین کے اطلاق نہ ہونے کی شقوں کو شامل کیا جاتا ہے اور قانونی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی بھی موجود نہیں ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی ثالثی اور فیصلہ سازی فورمز کے سامنے ملک کو بھاری مالی قیمت ادا کرنا پڑجاتی ہے۔
پاکستان بدقسمتی سے حکمرانی اور عدالتی نجات کے شعبوں میں دنیا کے کم درجہ بندی والے ممالک میں شامل ہے جسے جنگی بنیادوں پر اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس کے متحرک وجود کے لئے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔گورننس پر حکومتی احتساب، رشوت ستانی، جرائم کا شکار بننے، مجرمانہ انصاف اور قانونی انصاف تک رسائی کے شعبوں میں پاکستان کا تاثر بھی دنیا میں اچھا نہیں ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں اور قانون ساز اداروں کی طرف سے گڈ گورننس اور تیز اور سستا انصاف کو ترجیح دی جائے جو وطن عزیز کی بقا، سلامتی اور خوشحالی کے لیے سب سے اہم اور ناگزیر ہیں۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 37 بھی پالیسی کے اصولوں کے ذریعے تیز رفتار اور سستے انصاف کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کی کمی ہے۔
ضرورت کے مطابق عام آدمی کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو روکنے کے لیے انتظامی اور قانونی انصاف میں اصلاحات فوری طور پر شروع کی جائیں۔ ایک فلاحی اور خوشحال ملک کے لیے موثر گورننس اور عدالتی نظام کا ہونا بھی بہت ضروری ہے اور یہ کہ اس کے شہریوں کے ذریعے سرکاری محکموں اور عدالتوں سے نمٹنے کے عمل کو ایسے طریقہ کار کے ذریعے نمٹا جائے جو آسان رسائی، سادہ، کم طویل، وقت پر ہو۔ موجودہ انتظامی اور عدالتی نظام کو لیپا پوتی کے ذریعے درست نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ انتظامی اور قانونی نظام کو حکومتی طریقہ کار ، قواعد وضوابط اور بنیادی قوانین دونوں میں تبدیل کرنے کے لئے مخلصانہ قانونی کوششیں فوری طور پر شروع کی جانی چاہئیں۔
پاکستان میں موثر اور قابل اعتبار انتظامی اور عدالتی نظام کے لیے یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ وہ وفاقی سطح پر نیشنل گورننس اینڈ جوڈیشل ڈیلیورینس بیورو (این جی جے ڈی بی) جیسا ادارہ قائم کرے جس میں جدید انتظامی اور قانونی انصاف کے ساتھ گورننس اور عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے قانون سازی کے اقدامات تجویز کیے جائیں۔ اس ادارے کو ہمارے پورے انتظامی اور عدالتی نظام کے لئے پہلے فرانزک مطالعہ بھی کرنا چاہئے اور مزید بہتری کے لئے بار ایسوسی ایشن اور اکیڈمیا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے۔ مجوزہ ادارے کے فیصلوں کی نگرانی اور نفاذ اعلی سطح سے کیا جانا چاہئے۔ قانون سازی کے ماڈل ڈرافٹ کے طور پر اس کی تجاویز اور سفارشات کو نظرثانی اور حمتی رائے کے لئے پارلیمنٹ اور اعلی عدلیہ کو بھیجا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ نئے انتظامی اور عدالتی نظام کی نگرانی کی جائے اور اس ادارے کی چھتری تلے ہر چھ ماہ کی بنیاد پر اور شہریوں کے مفاد میں مزید بہتری کے لئے دیگر اسٹیک ہولڈرز کی ہم آہنگی کے ساتھ توجہ دی جائے۔
پاکستان میں بھی نیم عدالتی اور سول انصاف دونوں طرف سے تنازعات کے متبادل حل کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام کو سرکاری عہدیداروں کی خواہشات کی بنیاد پر اس فرسودہ حکمرانی اور نظام انصاف کے رحم و کرم پر زیادہ نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ ان کوششوں میں مقدمات کے بڑے بیک لاگ کو کم کرنے، 60 دن کے اندر شکایات کے حل، ثالثی کے ذریعے متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کو فروغ دینے، قانونی چارہ جوئی میں صرف ہونے والے وقت کو کم کرنے اور سرکاری اداروں کی بدانتظامی بارے عوامی شکایات کے سلسلے میں فوری اور سستے ریلیف کے لئے محتسب کے کردار کو مستحکم کرنے کی بھی ہدایت کی جاسکتی ہے۔ عدالتوں کے سامنے مقدمات کا بوجھ پہلے ہی بہت بڑا ہے اور بہت سی شکایات جو محتسب کے سامنے لائی جائیں انہیں قانونی تنازعہ میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اس طرح کا طریقہ کار دیہی علاقوں میں بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے اور اسے ضلعی اور یونین کونسل کی سطح تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم پاکستان میں انتظامی اور انصاف کی اصلاحات کے اس طرح کے آغاز کے لئے بھی دعا کر سکتے ہیں تاکہ وسیع تر عوامی مفاد میں جلد از جلد قانون کی حکمرانی، ترقی، خوشحالی اور عالمی برادری میں باعزت درجہ بندی ہو سکے۔

لکھاری کا تعارف:
حافظ احسان احمد کھوکھر 22 برس سے زائد عرصے سے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کی حیثیت سے پریکٹس کررہے ہیں۔ انہوں نے چیئرمین / عدالتی رکن، کسٹمز، فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس اپیلٹ ٹریبونل، پاکستان، جسٹس آف پیس، ایڈوائزر فیڈرل ٹیکس محتسب، پاکستان، وفاقی وکیل برائے پاکستان، سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹ کمیشن، سینئر ایڈوائزر/ رجسٹرار/ شکایات کمشنر برائے اوورسیز پاکستانیز، فیڈرل (وفاقی محتسب) پاکستان سمیت بہت سے اہم نیم عدالتی عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ انہیں قانون، حکمرانی اور انتظامی انصاف کا وسیع تجربہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں