Tuesday, May 28, 2024
ہومبریکنگ نیوزمیجر جنرل ریٹائرڈ نجم الحسن شیرازی کا دبئی پراپرٹی لیکس پر ردعمل

میجر جنرل ریٹائرڈ نجم الحسن شیرازی کا دبئی پراپرٹی لیکس پر ردعمل

اسلام آباد(آئی پی ایس) میجر جنرل ریٹائرڈ نجم الحسن شیرازی نے دبئی پراپرٹی لیکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میری 100 فیصد پراپرٹی ڈکلئیرڈ ہے۔

دبئی پراپرٹی لیکس میں نام سامنے آنے پر میجر جنرل ریٹائرڈ نجم الحسن شیرازی نے کہا کہ میں نے 2007 میں ال سقران ٹاور جے ایل ٹی ٹاور میں سرماریہ کاری کی تھی اور میں بینکنگ چینل کے ذریعے اپنا پیسہ دبئی لے کر گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میری تمام جائیدادوں کی تفصیلات انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کی گئی ہیں اور میری 100 فیصد پراپرٹی ڈکلئیرڈ ہے، اثاثوں کی موجودہ مالیت 18 ہزار درہم ہے جب کہ 2007 میں میرے اثاثوں کی مالیت 10 لاکھ 30 ہزار درہم تھی۔

دبئی پراپرٹی لیکس کے مطابق سابق ڈی جی ملٹری لینڈ میجر جنرل سید نجم الحسن شاہ ریٹائرڈ بھی ال سقران ٹاور میں ایک آف پلان پراپرٹی کے مالک ہیں۔ جون 2012 میں اس پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو 3 لاکھ 61 ہزار 942 ڈالر تھی۔

دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ (ڈی ایل ڈی) کے سسٹم میں آج بھی یہ جائیداد ان کی ملکیت میں ہیں۔ اس کے علاوہ فہرست میں ان کا نام الثانیہ ففتھ الشیرا اور الہیبیہ تھرڈ میں 2 دیگر جائیدادوں کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے لیکن آج کی تاریخ میں ان میں سے کوئی بھی جائیداد ان کی ملکیت میں ظاہر نہیں ہوتی۔

خیال رہے کہ عالمی رہنماؤں، سیاستدانوں اور دیگر نامور شخصیات کی خفیہ دولت کے حوالے سے ’دبئی ان لاکڈ‘ کے نام سے ایک اور اسکینڈل سامنے آیا ہے، دبئی پراپرٹی لیکس میں پاکستان کے نامور سیاستدان، بیورکریٹس، سابق فوجی افسران سمیت کاروباری شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد(آئی پی ایس)سابق وفاقی وزیر و سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ جسٹس بابر ستار کے ساتھ ایک سال پہلے جو کچھ ہوا، وہ ایک سال بعد کیوں یاد آگیا ہے، پہلے کیوں نہیں بتایا گیا، اب کسی پر الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، آپ کو ثبوت دینے ہوں گے۔
سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میری آج کی پریس کانفرنس جسٹس بابر ستار اور جسٹس اطہر من اللہ کے لیے ہے، کیونکہ 28 مارچ چھٹی کے دن بابر ستار کی طرف سے پریس ریلیز آتی ہے، اور بابرستار کہتے ہیں کہ جج بننے سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو رپورٹ بھیجی، ہم نے کہا کہ اس کے حوالے سے ریکارڈ روم کے اندر کوئی چیز ہوگی تحریری طور پر لیکن اس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا۔
انہوں نے کہا کہ کورڈ آف کنڈکٹ 2 کے تحت ججز کے بارے کہا گیا ججز اللہ سے ڈرنے والے اور کسی سے ڈرنے والے نہیں ہونے چاہییں، لیکن اب جواب نہیں آرہا تو ابہام بڑھ رہا ہے، بابر ستار نے جو اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھا اس کا ثبوت دے دیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ میرا اطہر من اللہ کے ساتھ کیس لگا تھا، وہ بہت سخت آدمی ہیں، اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ کسی کو بغیر ثبوت کے کام کرنے دیں گے، اور نہ ہی میڈیا کی زینت بننے کے لیے فیصلے کرتے ہیں۔ میرا گمان ہے کہ وہ کسی کے پریشر میں نہیں آتے اور نہ ہی اندھیرے میں کسی سے ملتے ہیں۔
’اطہر من االلہ نے لکھائی میں اگر کچھ لکھا ہے تو بابر ستار کے لیے سوال پیدا ہونگے‘۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ کوئی ٹی وی پر تجزیہ کرے یا انٹرویو دے، قانون ہم دونوں کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ انہوں نے انٹیلیجنس اداروں پر الزام لگائے ہیں اس کا ثبوت دینا ہوگا۔
’میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ، چیف جسٹس بندیال کے سامنے پیش ہوا ہوں، ان لوگوں کے قلم میں اتنی طاقت ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے فیصلے کرسکتے ہیں، وہ نا بکتے ہیں، نا رات میں کسی سے ملتے ہیں نا اپنی ذات کے لیے کام کرتے ہیں‘۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔