27

سمندرپارپاکستانیوں کی رقوم کیوں تاخیرسے وطن پہنچتی ہے؟

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے گھر والوں کو بھیجی گئی رقوم کی صورت میں پاکستان کو بڑی تعداد میں ترسیلات زرموصول ہوتی ہیں اور اکثر پاکستان میں موجود ان کے خاندان کے افراد کو یہ رقوم تاخیر سے ملنے کی بھی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایک شہری بتاتے ہی ان کے بھائی گذشتہ پانچ برس سے اٹلی میں مقیم ہیں اور اکثر و بیشتر رقم پاکستان بھیجتے ہیں، لیکن بعض اوقات بینک کے ذریعے بھیجی گئی رقم تاخیر سے موصول ہوتی ہے اور کبھی کبھار تو کئی روز گزر جانے کے بعد پیسے موصول ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ایسے میں بینکوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور پھر طویل انتظار سے ذہنی کوفت لاحق ہو جاتی ہے کیونکہ کوئی بھی اصل وجہ نہیں بتا رہا ہوتا کہ تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
بیرون ملک سے رقم کتنے وقت میں ٹرانسفر ہوتی ہے؟
رقوم کی منتقلی میں تاخیر سے متعلق استفسار پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بینکوں کو بغیر کسی وجہ کے صارفین کی رقوم روکنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بینک بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم کو صارف کے اکاؤنٹ میں فوری طور پر منتقل کرنے کے پابند ہیں اور اگر رقم کسی اور بینک میں بھیجی گئی ہے تو ایسی صورت میں 24 گھنٹوں میں رقم منتقل کرنے کا بینک پابند ہوتا ہے۔ ترجمان سٹیٹ بینک نے بتایا کہ ’بینکوں کی جانب سے غیر ضروری تاخیر پر جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں تاہم اس کا فیصلہ کیس ٹو کیس بنیادوں پر ہوتا ہے۔
رقم منتقل ہونے میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟
پاکستان کے ایک نجی بینک میں ترسیلات زر ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے ایک ملازم بتاتے ہیں کہ ’ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ بیرون ملک کے بینک سے پیسے براہ راست پاکستان کے بینک میں آتے ہوں۔ ہر بینک درمیان میں ایک اور بینک کو پیسے بھیجتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’اگر امریکہ سے پیسے آنے ہیں تو وہ پہلے دبئی کے کسی بینک میں منتقل ہوتے ہیں اور پھر وہاں سے رقم پاکستان میں متعلقہ بینک کو موصول ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں 24 گھنٹے کا وقت لگ جاتا ہے، درمیان والا جو بینک ہے بعض اوقات ایک آدھا دن منتقل کرنے میں بھی لگا دیتا ہے جس کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’جب پاکستان کے بینک میں رقم منتقل ہوجاتی ہے تو پھر اس کے اکاؤنٹ ہولڈر کی تصدیق کی جاتی ہے کہ آیا کوئی منی لانڈرنگ کا شبہ تو نہیں ہے۔‘
بینک رقم اپنے پاس بلاوجہ نہیں رکھتا کیونکہ اس میں بینک کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ‘جب رقم پاکستان منتقل ہوتی ہے تو پاکستانی روپے میں ہوتی ہے اور اس کا ڈالر کا ریٹ انٹر بینک کے مطابق لگتا ہے جو ویسے بھی اوپن مارکیٹ سے کم ہوتا ہے اور بینک ویسے بھی ڈیڑھ دو روپے فی ڈالر کے حساب سے کما لیتا ہے۔
ایک اور نجی بینک کے اہلکار کے مطابق ’رقم منتقل کرنے میں تاخیر میں 90 فیصد ایسے کیسز ہوتے ہیں جن میں کچھ ضروری دستاویزات کی کمی ہوتی ہے اور تصدیق کرنے میں دشواری ہو رہی ہوتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’بیرون ملک سے جتنی بھی رقوم پاکستان آرہی ہوتی ہیں وہ سٹیٹ بینک کے ذریعے ہی آرہی ہوتی ہیں اس لیے وہ ایسی تمام ٹرانزیکشنز کومانیٹر کر رہا ہوتا ہے اس لیے بھی بینک خود اس کو روک نہیں سکتا۔ اس حوالے سے سٹیٹ بینک کے ترجمان کہتے ہیں کہ ’بعض اوقات اکاؤنٹ نمبر کی غلطی اور رقم منتقل کرنے کی وجوہات وغیرہ ہیں جن کی تصدیق نہیں ہوپاتی، جو پیسوں کی منتقلی میں تاخیر کا باعث بنتی ہیں۔ کیونکہ ایسی صورت میں بینک بھیجنے والے سے رابطہ کرکے درست معلومات حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سٹیٹ بینک نے صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان میں موجود تمام بینکوں کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ وہ بیرون ملک سے آنے والی رقم کے حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی کال سینٹرز قائم کریں۔ اس کے علاوہ صارفین کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں سٹیٹ بینک کے کال سینٹرز سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں