75

پولیس کانسٹیبل کی سگی بیٹی کے ساتھ زیادتی

تحریر: عفت رؤف
رب کی رحمت”بیٹی”ہے نوعمر ہے،خیالی دنیا،خواب،قہقہے،ارادے،زندگی،بے فکر، آزاد، پراعتماد یعنی مکمل تصویر حسن لیکن جنسی درندگی کا شکارہوگئی،مجرم اس کامقدس ترین رشتہ “باپ”تھا۔ ۔روح کا خوف،مایوسی، رسوائی حتیٰ کہ مائل بہ خودکشی۔۔۔ بیٹی کو پہلے توبولنے نہیں دیا جاتا ہمت کرکے بولے بھی تو یقین نہیں کرتے،ڈری سہمی، روندی،دھتکاری ماں سے دکھ بانٹتی ہے تو شاطر باپ قسموں تسلیوں سے اسے جھٹلا دیتا ہے ،عیاری ایسی کہ گرد و نواح میں نمازی پرہیزگار مشہور،گھر میں وفادار معروف،جنگ آمد بجنگ حالات سے سمجھوتہ نہ کرسکی اورخود آپ اپنی محافظ بن گئی مکروہ بستر کے سامنے پڑی کمپیوٹر ٹیبل ہر موبائل کیمرے نصب کرکے باپ کے گھناؤنے جرم کو بےنقاب کردیا، وہ سرخرو ہوئی لیکن محکمہ پولیس کا یہ سابق کانسٹیبل اپنے جرم پر نادم تو کیا ہوتا بیوی بیٹی کی زندگی حرام کر دی ،موصوف کی واقف کارسرکاری ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹرچوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد لڑکی کا میڈیکل کرتی ہے اس دوران ماں بیٹی کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے لیکن واقعے کی ویڈیو موجود ہونے کے باعث میڈیکل کی تاخیر نے زیادہ کام نہ کیا واقعہ دو برس قبل کا ہے جس کی ویڈیو یقیناً معروف کرائم جرنلسٹ اور وکیل انیلا ذکا کے پاس محفوظ ہے مقام افسوس ہے کہ سوتیلے باپ تو چلیں بیوی کی بیٹیوں کو شادی کے ساتھ ملنے والا مال غنیمت سمجھتے تھے مگر سگی بیٹی بھی باپ کے شرسے محفوظ نہیں نہایت معتبر شخصیت نے ذکر کیا کہ ایسے واقعات کاتدارک نہ ہونے کے باعث یہ رواج پکڑتا جا رہا ہے اور باعزت لوگ اپنی بیٹیوں سے نگاہ ملاتے بھی کتراتے ہیں کراچی کی ایک بے بس ماں ثمرین آصف بے حال ہو کر آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم اپنی متاثرہ بیٹی کے ساتھ با اثر ملزمان کےریپ پر سراپا احتجاج ہے کہ بچی کا میڈیکل کرانے میں تاخیر ہوتی رہی الٹا اس پر دباؤ بڑھانے کے لیے گیارہ درخواستیں بغرض ایف آئی آر درج کر دی گئیں۔۔ خانیوال ، وہاڑی،مستی گیٹ لاہور،اوچ شریف بہاولپورپاکپتن،گوجرانوالہ، قصور اور پنوں عاقل کی متاثرہ بیٹیاں سگے باپوں کی ہوس کا نشانہ بنیں لاہور کی چودہ سالہ علیشہ تو امید سے ہوگئی ڈسکہ سیالکوٹ کی جماعت نہم کی بیٹی نے ایسے ظلم سے تنگ آکر باپ کو گولی مار دی حال ہی میں حافظ آباد کی رہائشی ایک کم عمر بیٹی کے درندہ صفت باپ کو سزائے موت سنائی گئی تو کچھ امید بندھی لیکن ہم بطور معاشرہ مکمل تباہ ہو چکے ہیں پڑوسی ملک کی ایک متاثرہ لڑکی کہتی ہے کہ”لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ اور قبر میں محفوظ ہیں” لیکن پاکستان میں تو قبربھی باعث ہزیمت ہے مردہ خواتین کی میتوں کے ساتھ بےحرمتی کے واقعات عام ہیں مزید یہ کہ مقتولہ خواتین کے پوسٹ مارٹم میں مصروف ذمہ دار افراد بھی ان کی بےحرمتی اور نازیبا تصاویر بنانےمیں بےباکی سےملوث ہیں
موجودہ حکومت میں اینٹی ریپ لا کا نفاذ ہو چکا ہے سائبر کرائم افسران اور پولیس سے فہرستیں منگوا لی گئیں ہیں جنھیں کیمیکل کیسٹریشن کی سزا متوقع ہے ان فہرستوں میں بلیک میلر مرد و خواتین دونوں شامل ہیں امید ہے دعوؤں اور وعدوں سے آگے ہنگامی بنیادوں پر خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اسلام آباد پولیس کی خاتون ایڈیشنل ایس پی آمنہ بیگ کا خصوصی پیغام ہے کہ خواتین اپنے خلاف ہونے والے واقعات کا اندراج کرائیں انھیں خواتین اہلکاروں وافسران کی معاونت ملے گی امید ہے یہ پاک سر زمین ایسے ناپاک افراد سے پاک کرنے کی مہم منزل مقصود تک پہنچے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں