21

طوفان کی شدت میں اضافہ، محکمہ موسمیات کاکراچی کیلئے نیا الرٹ جاری

کراچی، بحیرہ عرب میں ہوا کے کم دبا نے ڈپریشن کی شکل اختیار کرلی ہے، گہرے سمندرمیں بننے والی غیرمعمولی سرگرمی کا فاصلہ کراچی سے 240 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے، جو آج سائیکلونک اسٹارم یا سائیکلون بن سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والے ہوا کے کم دبائو سے طوفان کی شکل اختیار کرنے والا طوفان گلاب جوکہ شدت اختیار کرنے کے بعد بھارتی ساحلی علاقے اڑیسہ سے ٹکرانے کے بعد واپس ہوا کے کم دبائو کی شکل اختیار کرگیا تھا، یہ سلسلہ بحیرہ عرب منتقل ہونے کے بعد بتدریج اور مرحلہ وار شدت اختیارکرتا جارہا ہے ۔اگر یہ ڈپریشن طوفان کی شکل اختیار کرجاتا ہے، تو اسے شاہین کا نام دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں نہ صرف گرج چمک کے ساتھ کراچی اور دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشیں ہوسکتی ہیں بلکہ یہ مون سون سلسلہ تندوتیز ہواں اور سمندرمیں اونچی لہروں کی وجہ سے طغیانی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ تیز ہواں کی وجہ سے کچے مکانوں، بل بورڈز اور درخت گرنے سمیت ساحلی آبادیوں کے زیر آب آنے کے خدشات موجود ہیں۔ جب کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق دوروز قبل بحیرہ عرب میں موجود ہوا کا کم دبا دوروز کے دوران ڈپریشن اور ڈیپ ڈپریشن کی شکل اختیار کرچکا ہے،اور ایک درجہ مزید شدت کے بعد آج سائیکلونک اسٹروم میں ڈھل سکتا ہے، محکمہ موسمیات کی جانب سے اب تک اس حوالے سے 3 الرٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔تازہ ترین الرٹ کے مطابق سمندرمیں غیرمعمولی سرگرمی کا فاصلہ جمعرات کی شام تک کراچی سے 240، ٹھٹھہ سے 200 کلومیٹر اور اورماڑہ سے 410 کلومیٹر کے فاصلے پرتھا۔چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق گذشتہ 14 برسوں میں یہ صورت حال دوسری مرتبہ پیدا ہوئی ہے کہ ایک کم دبا شدت کے بعد طوفان اور بعدازاں پھر کم دبا کے بعد ایک اور طوفان کی شکل اختیارکرگیاہو، ایسا بہت کم ہوتا ہے، 2007 میں ایسا ہی ایک غیرمعمولی طوفان بلوچستان کے ساحلی مقامات پسنی،اورماڑہ میں قرب وجوار کی آبادیوں کے لیے نقصان کا باعث بن چکا ہے، جس کے دوران نہ صرف 10 کے قریب لانچیں ڈوب گئی تھیں بلکہ اس طوفان کی وجہ سے درجنوں مکانوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔محکمہ موسمیات نے اپنے تیسرے ٹروپیکل سائیکلون الرٹ میں ماہی گیروں کو 2 اکتوبرتک سمندر میں مچھلی کے شکار سے گریز کامشورہ دیا ہے، سمندر میں موجود سسٹم کی وجہ سے شہر کے مختلف مقامات پروقفے وقفے سے درمیانی اور ہلکی بارشیں ہوئیں، جب کہ دن بھر معمول سے تیز گردآلود ہوائیں چلیں، جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں