49

قومی ادارہ نفسیات میں آٹھویں انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد ،اکیس اور بائیس اکتوبر دوہزار اکیس کو قائدِ اعظم یونیورسٹی کے قومی ادار نفسیات نے نوجوانوں کی ذہنی صحت اور ترقی کی راہ میں درپیش چیلنجز کے موضوع پر آٹھویں دو روزہ ورچول انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔
اس کانفرنس میں بہت سے سوشل سائنٹسٹ، فلاحی اداروں اور طلبا کو دعوت دی گئی تاکہ وہ اس فورم پر اپنا تحقیقی کام لوگوں کے ساتھ شئیر کر سکیں۔کانفرنس کے آغاذ میں کانفرنس آرگنائزر ڈاکٹر نیلوفر کرن رف نے کانفرنس کے شرکا کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ یہ کانفرنس بہت سے دانشوروں، پروفیشنلز، محققین اور طلبا کو دنیا سے اپنی تحقیق شئیر کرنے کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے جس پر نا صرف وہ لوگوں سے اپنی تحقیق شئیر کریں گے بلکہ خود بھی دوسروں کی تحقیق سے استفادہ کریں گے۔کانفرنس کی چیف آرگنائزر، ڈائریکٹر قومی ادار نفسیات ڈاکٹر روبینہ نے بھی اس موقع پر کانفرنس کے شرکا سے خطاب کیا اور بتایا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد لوگوں میں نوجوانوں کی ذہنی فلاح و بہبود کی آگاہی پیدا کرنا اور دورِ حاضر میں نوجوانوں کو لاحق چیلنجز اور ان کے سدباب کے طریقہ ہائے کار اجاگر کرنا ہے۔ اس موقع پر قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر محمد ادریس نے شرکا سے اپنے خطاب میں کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور آنے والے سالوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس وقت نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک کی معاشی ابتری کے ان کی ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو اجاگر کرنے کے لیے اس کانفرنس کا انعقاد کرنے کے اس اقدام پر قومی ادار نفسیات کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر شرکائے کانفرنس سے قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کانفرنس کے موضوع کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر گفتگو وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود پر قومی سطح کے مباحثے اور تعمیری عمل کی ضرورت ہے۔کانفرنس کے باقاعدہ آغاذ کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقررین و محققین نے بھی خطاب کیا۔ گیارہ مختلف سائنٹیفک سیشنز میں چرانوے محققین نے اپنی تحقیق پریزینٹیشن کی صورت میں پیش کی اور ایک سو ستاسٹھ محققین نے اپنی ریسرچز پوسٹرز کی صورت میں شرکا سے شئیر کیں۔ انگلینڈ، نیدرلینڈ، امریکہ، کینڈا اور انڈیا سے قابلِ ذکر محققین نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اپنی تحقیق شرکائے کانفرنس کے ساتھ شئیر کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں