10

بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ، اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں ، چیئرمین نیب

اسلام آباد،قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی موثر کامیاب اور جامع حکمت عملی کے باعث پاکستان کو سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین منتخب کیا گیا، نیب کی کامیاب حکمت عملی کے تناظر میں سارک کے رکن ممالک بدعنوانی کی روک تھام کیلئے پالیسی سازی پر عمل پیرا ہیں، نیب دنیا کا واحد تفتیشی ادارہ ہے جس میں مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشن اور احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹرز جنرل کو ہدایت کی ہے کہ تمام انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو مقررہ میعاد کے اندرمکمل کریں تا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق “سب کے لئے احتساب” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے وائٹ کالر کرائم کے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے انسداد بدعنوانی کی موثر قومی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی اور گیلپ سروے کی رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں اور 2020 کی اسی مدت کے اعدادوشمار کے مقابلے میں2021 میں شکایات انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کی تعداد تقریبا دوگنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ قیادت کے دور میں نیب نے متعلقہ احتساب عدالتوں میں 600 کرپشن ریفرنس دائر کیے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کارکردگی ہے، اس کے علاوہ 1278کرپشن کے مقدمات پہلے ہی متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، نیب کا مجموعی طور پر سزا کا تناسب تقریبا 66فیصد ہے، نیب نے بدعنوان عناصر سے 539ارب روپے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے جو کہ ایک ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل ہوتی ہے جس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، نیب نے اوائل عمری میں نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے ہائرایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ملک بھر کے کالجوں، یونیورسٹیوں اور سکولوں میں 50ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے نیب راولپنڈی بیورو میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیے کی سہولت موجود ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 819ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنے علاقائی بیوروز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے جامع مقداری گریڈنگ نظام وضع کیا ہے، اس نظام کے تحت گذشتہ تین سال کے دوران نیب کے تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا یکساں معیار پر جائزہ لیا جاتا ہے، باقاعدہ مانیٹرنگ اور انسپکشن کے باعث نیب کے علاقائی بیوروز کی کارکردگی روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں