7

نیب نے ان افراد کو کٹہرے میں لایا جن کو بلانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا،چیئرمین

اسلام آباد قومی احتساب بیورو نے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب پہلی بار ان افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جن کو کوئی بلانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، نیب گزشتہ 4 سال کے دوران بدعنوان عناصرسے539 ارب روپے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پروصول کئے جبکہ نیب مقدمات سزا کی شرح 66 فیصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں اکتوبر 2017 سے30ستمبر 2021 تک 4 سالوں کے دوران نیب نے539 ارب بدعنوان عناصر سے وصول کئے ہیں جبکہ نیب مقدمات سزا کی شرح 66 فیصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے اپنے قومی فرض کو انجام دیتا گا۔ انہوں نے کہاکہ نیب منی لانڈرنگ ،آمدنی سے زائد اثاثے اورمیگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہے۔ 179میگاکرپشن کیسزمیں سے66میگاکرپشن مقدما ت کومنطقی انجام تک پہنچایا گیا جبکہ 93 میگاکرپشن کیسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ نیب نے نیب آرڈیننس 1999 کی شق 16 اے کے تحت معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی جلد سماعت کے لئے درخواستں دینے کافیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو اپنے قیام سے اب تک 4 لاکھ 96 ہزار 460 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 4 لاکھ 87ہزار 124 شکایات کو نمٹایا گیا۔ نیب نے 16 ہزار 93 شکایات کی جانچ پڑتال کی منظوری دی ، 15 ہزار 378 شکایات کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی۔ نیب نے 10 ہزار 241 انکوائری کی منظوری دی جن میں سے 9275 کو مکمل کیا گیا۔ نیب نے 4 ہزار 654 انویسٹی گیشن کی منظوری دی جن میں سے 4 ہزار 358 انویسٹی گیشن کو مکمل کیاگیا۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر819 ارب روپے وصول کیے ۔نیب نے اس عرصہ کے دوران مختلف احتساب عدالتوں میں 3 ہزار 754 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہیں جن میں سے 2 ہزار 477 کا فیصلہ معزز احتساب عدالتوں نے کیا ہے۔ اس وقت نیب کے 1277 بدعنوانی کے ریفرنسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 1335.019 ارب روپے بنتی ہے۔ نیب احتساب سب کے لئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بڑی مچھلیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہے۔ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کافوکل ادارہ ہے۔ نیب کو سارک اینٹی کرپشن کا پہلا چیئرمین منتخب کیاگیا ۔ نیب نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کیساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ نیب نے ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر انکوائریوں اور انویسٹی گیشن میں بہتیر لانے کے لئے اور سینئر سپر وائزری کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔نیب نے جدید فرانزک سائنس لیبارٹری کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک ، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزییے کی سہولت موجود ہے ۔ ان اقدامات سے نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت میں نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے جامع معیاری نظام وضع کیا ہے۔ انفورسمنٹ حکمت عملی کے تناظر میں چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے مقدمات کو نمٹانے کے لئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جن میں شکایات کی جانچ پڑتال کے لئے 2ماہ ، انکوائری کے لئے 2 ماہ اور انویسٹی گیشن کے لئے 4 ماہ کا عرصہ مقرر کیاگیا ہے۔ نیب نے تمام علاقائی بیوروز میں وٹنس ہینڈلنگ سیلز بھی قائم کئے ہیں ۔ اس اقدام کے باعث نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر عدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کررہا ہے۔ نیب مقدمات میں سزائوں کی مجموعی شرح 66 فیصد ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کے عزت و قار میں اضافہ ہوا ہے اور آج بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے۔ چیئرمین نیب نیتمام نیب افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کو کرپشن فری بنانے میں اپنی کوششیں دو گنا کریں۔ انہوں نے کہاکہ نیب کے تمام افسران بد عنوانی کے خاتمہ کو قومی فرض سمجھ کر عزم، میرٹ ، محنت اور شفافیت کے ذریعے اداکریں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، عالمی اقتصادی فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نیب کی انسداد بد عنوانی کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی دانشمندانہ قیادت میں نیب کے وقار میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ بدعنوان عناصر کر گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے لوٹی گئی رقم وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائی گء جو کہ نیب کے افسران کی محنت ، میرٹ اور شفافیت کا اظہار ہے جو کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ کو قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں