15

شہریار آفریدی کا اقوام متحدہ سے سید علی گیلانی کے حراستی قتل کی تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد،چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے حراستی قتل کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شہر یا ر آفریدی نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاس کے باہر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینئر حریت رہنمامحمد اشرف خان صحرائی کے حراستی قتل کے بعد یہ دوسرا ہائی پروفائل حراستی قتل ہے۔انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی ایک عوامی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی آزادی کشمیر کے عظیم مقصد کے لیے وقف کررکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رحلت اور پھر بھارتی فورسز کے پہرے میں تدفین نے کشمیری عوام میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر سید علی گیلانی کے قتل کی تحقیقات نہیں کی گئیں تو بھارت دیگر کشمیری قائدین کو بھی زیرحراست میں قتل کرسکتا ہے۔شہریارآفریدی نے کہا کہ اگر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اشرف خان صحرائی کے حراستی قتل کی تحقیقات کرتیں تو سید علی گیلانی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ آفریدی نے کہا کہ طبی سہولیات کی عدم دستیابی، طویل نظر بندی اورمسلسل تنہائی نے سید علی گیلانی کی صحت کو مزید خراب کیا۔انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی فورسز کا جارحانہ رویہ، سید علی گیلانی اور محمد اشرف صحرائی کی خفیہ تدفین اور اہلخانہ اور دوستوں کو جنازے میں شرکت سے روکنا مزید شکوک پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز اہلکار رات گئے مرحوم رہنما کے گھر میں گھس گئے اور ان کی میت کو زبردستی لے گئے اورافراد خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں ایک نمایاں آزادی رہنما تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے پوری زندگی مسئلہ کشمیر پر ایک مضبوط موقف اختیار کیے رکھا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت پر مبنی تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں