18

سی ڈی اے کی قبضہ مافیا کیخلاف کارروائیاں،غیر قانونی تعمیرات مسمار ، سرکاری اراضی پر قبضے کی کوشش ناکام

اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی ترقیاتی ادارے کی انتظامیہ کی ہدایت پر شعبہ انفورسمنٹ نے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کی معاونت سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف متعدد مقامات پر کارروائیاں کیں جس میں غیر قانونی عمارتیں، مکانات و دیگر غیر قانونی تعمیرات مسمار کردی گئیں۔تفصیلات کے مطابق ان کارروائیوں کا آغاز اسلام آباد کے نواحی علاقے بہارہ کہو میں کوٹھ ہتھیال بالمقابل کیانی روڈ سے کیا گیا، جہاں غیر قانونی ہفتہ وار بازار جو پندرہ کنال سے زائد سرکاری اراضی پر محیط تھا جسکی تیس چار دیواریاں اور ڈی پی سی زیر تعمیر تھیں جنکو بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کردیا گیا اور سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرالی گئی بعد ازاں بہارہ کہو کے ہی علاقے کوٹھ ہتھیال بالمقابل کیانی روڈ میں ایک غیر قانونی بانڈز کا کارخانہ جو پندرہ کنال سے زائد سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے تعمیر کیا گیا تھا وہاں سی ڈی اے کے شعبہ انفورسمنٹ نے بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی بانڈز کا کارخانہ اور متعدد بانڈز مسمار کرکے سرکاری اراضی واگزار کرالی اور ایک ٹرک بانڈز کا ضبط کرکے سی ڈی اے کے سٹور میں جمع کروادیامزید برآں اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ملپور کا داخلی راستہ جو قائداعظم یونیورسٹی سے منسلک ہے، وہاں بارہ کمروں پر مشتمل غیرقانونی مرغی خانہ، ایک واش روم جبکہ چار غیر قانونی کمرے اور ان سے ملحقہ دو واش رومز جو پانچ کنال سے زائد سرکاری اراضی پر محیط تھے جنکو شعبہ انفورسمنٹ نے بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کردیا اور سرکاری اراضی واگزار کرالی گئی۔علاوہ ازیں اسلام آباد کے علاقے بری امام کے محلہ نوری باغ میں ایک غیر قانونی زیر تعمیر کمرہ، مسلم کالونی سے منسلک محلہ شمس گیٹ میں چار زیر تعمیر غیر قانونی دکانیں، دو کمرے، ایک ڈی پی سی اور 2 چار دیواریوں کو بھاری مشینری کی مدد سے شعبہ انفورسمنٹ نے مسمار کردیااس موقع پر سی ڈی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور قبضہ مافیا کے ساتھ آ ہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گاواضح رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے غیر قانونی تجاوزات و تعمیرات کے خلاف مسلسل آ پریشن کرنے میں مصروف ہے جس سے اربوں روپے کی سرکاری اراضی واگزار کرائی جاچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں