12

پنڈورا پیپرزکی تحقیقات میں کلیئر ہونے والوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوگی، وزیراعظم

اسلام آباد،وفاقی کابینہ نے ساتویں مردم شماری کرانے سے متعلق تجاویز منظور کرلیں،کابینہ نے آئندہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کروانے کا فیصلہ کر لیا۔
وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ملک میں ہونے والی ساتویں مردم شماری سے متعلق تجاویز کو جزوی طور پر منظور کرلیا گیا۔ کابینہ نے ساتویں مردم شماری کیلئے فوج کی تعیناتی کی بھی منظوری دے دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم نے مردم شماری کے طریقہ کار میں شامل بعض تجاویز کی مخالفت کی۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور امین الحق کی جانب سے مخالفت کی گئی۔وفاقی وزیر آئی ٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما امین الحق نے کہا کہ مردم شماری کیلئے ڈیفیکٹو طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے، جو شخص جہاں مقیم ہے اسے مردم شماری کے دوران اسی علاقے کی آبادی میں شمار کیا جائے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جن کے نام پیپرز میں آئے ہیں وہ کلیئر ہوگئے تو کارروائی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی سیل بنادیا ہے، جو ذمے دار قرار پائے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی اور اقتصادی صورتحال پر غور ہوا، پینڈورا پیپرز کے معاملے پر بھی کابینہ کو بریفنگ دی گئی، پینڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، جن کے نام آئے ہیں ان کی تین کیٹیگریز بنائی گئی ہیں، ایک کیٹیگری وہ ہے جس نے آف شور کمپنی ظاہر کی ہے، دوسری کیٹیگری وہ ہے جس نے کمپنی بنائی اور منی لانڈرنگ کی، تیسری کیٹیگری وہ ہے جس نے آف شور کمپنی ظاہر ہی نہیں کی۔پینڈورا پیپرز پر وزیراعظم انسپکشن سیل بنایا جائے گا۔ جو جائزہ لے گا کہ کس کی آف شور کمپنی قانونی اور کس کی غیر قانونی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مردم شماری کرانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور نادرا سے مدد لی جائے گی، مردم شماری مکمل ہونے کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں لیکن انتخابی اصلاحات پراپوزیشن موثر جواب نہیں دے رہی، اپوزیشن جلسوں میں رونے دھونے کے بجائے پارلیمنٹ میں کردار ادا کرے، انہیں حکومت کی انتخابی اصلاحات پسند نہیں تو اپنی لے آئیں۔نیشنل لائسنسنگ ایگزامینیشن (این ایل ای)کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے ڈاکٹرز بین الاقوامی معیار سے کم ہوں، تعلیمی میدان میں ہماری حالات یہ ہوگئی ہے کہ کچھ ممالک نے پاکستان کی ڈگری ماننے سے ہی انکار کردیا ہے، عالمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے میڈیکل طلبا کیلئے ٹیسٹ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، یہ نظام امریکا سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں کامیابی سے رائج ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے پاس بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بجلی کی فروخت میں اضافہ ہو اور گیس کی بچت ہو وفاقی کابینہ نے بجلی کا سیزنل پیکیج منظور کر لیا ہے، کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی 7 روپے فی یونٹ سستی دیں گے، تین رکنی کمیٹی بجلی کی قیمتوں کا جائزہ لے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں