Erum Chaudhary 52

‏چھاتی کا سرطان ۔۔۔ آگاہی ضروری

‏تحریر: ارم چوہدری
‎@IrumWarraich4
پاکستان سمیت دنیا بھر میں اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان سے آگاہ کیلئے مخصوص کیا گیا ہے ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہرسال لاکھوں خواتین اس مرض سے لاعلم ہونے سے موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں ۔
چھاتی کے سرطان کی کچھ اہم علامت میں اچانک رنگت کا بدلنا شکل اورسائز میں نمایاں طور پر تبدیلی، چھاتی میں مسلسل درد کا رہنا، بچوں کودودھ پلاتے وقت دودھ کے علاوہ خون کا چھاتی سے بہنا، چھاتی میں چھوٹی سی گلٹی کی نمایاں یا غیر نمایاں موجودگی کا احساس ہو تو بلا تاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے خود سے کوئی نتیجہ اخذ نہ کریں کیونکہ ضروری نہیں ہر گلٹی سرطان کی علامت ہو لہٰذا بہتر ہے کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے اور بلا شبہ ڈاکٹرز ہی بہتر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی خواتین میں چھاتی کا سرطان بہت تیزی سے پھیل رہا ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سال 2020 میں چھاتی کے سرطان کے 24 کیسز رپورٹ ہوئے جو ایک خطرناک علامت ہے۔ چھاتی کا سرطان دیگر اقسام کے سرطان کے مقابلے میں زیادہ پھیلتا ہے اور تمام اقسام کے سرطان میں سے پھیلنے کے اعتبار سے یہ پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔
لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ عالمی سطح پر اس بڑھتے ہوئے موذی مرض کے انفیکشن کے خاتمے کیلئے کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا رہی اسی لا پرواہی کے سبب جان لیوا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی دوسری بڑی وجہ خواتین میں آگاہی کا نہ ہونا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا عمل دخل بھی ہے۔
اسی سلسلے کے مد نظر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے ایوان صدر اسلام آباد میں چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی مہم کا افتتاح کیا صدر مملکت نے کہا کہ چھاتی کے کینسرکی جلد اور بروقت تشخیص سے 90 فیصد مریضوں کا علاج ممکن ہوجاتا ہے حکومت نے صحت کارڈ میں بھی چھاتی کے سرطان کے علاج کو شامل کرلیا ہے جو نہایت خوش آئند بات ہے صدر پاکستان نے کہا چھاتی کے سرطان کو چھپانے سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے تین مہینے میں ایک مرتبہ معائنہ ضروری ہے میڈیا اور سوشل میڈیا پر مرض کے حوالے سے آگاہی دی جا رہی ہے اعلیٰ تعلیمی اداروں سکول اور کالجز میں بھی اس حوالے سے آگاہی دی جا رہی ہے اور اس آگاہی مہم کو مزید بہتر اور موثر بنانا چاہیے۔
ایک دوسرے سے بات کرنے سے اپنی تکلیف بتانے سے بہت زیادہ مشکلات سے بچا جاسکتا ہے لیکن ہمارے ہاں اکثر خواتین ایسی بات کرنے سے کتراتی ہیں جوانتہائی غلط بات ہے۔ ہماری خواتین اس بارے میں بہت زیادہ حساس اور شرميلی ہوتی ہیں لیکن اگر کبھی ایسی کوئی بیماری جنم لے تو کسی کو بتانے سے ہچکچاتی ہیں وہ یہ کبھی نہیں چاہتيں کوئی انہیں دیکھے یا چھوئے۔
بصورت دیگر یہ بات قابل ذکر ہے وہ اپنا علاج خواتین ڈاکٹرز اور نرسز سے کرانے کو ترجیح دیتی ہیں اگر کسی خاتون یا لڑکی کو چھاتی میں گلٹی محسوس ہو تو بلا جھجک الٹرا ساونڈ اور میموگرافی کرائے تا کہ جلد از جلد مرض کی تشخیص ہو اور بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
چھاتی کے سرطان کے اسباب میں سب سے بڑا سبب جینز اور ہارمونز کی تبدیلی ہے اس لیے بعض اوقات ایک ہی خاندان کی خواتین اس کا شکار ہوجاتی ہیں جیسا خاندانی شادی ہونے سے بھی اس کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اگر خاندان میں کسی خاتون کی والدہ، والد، بیٹی یا بہن میں یہ مرض موجود ہے تو اس صورت میں بھی اس مرض کا رحجان بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چھاتی کے سرطان کو بھی ایک بیماری ہی سمجھیں اور خدارا اس کو مرض کے طور پر ہی سمجھا جائے کیونکہ بیماری کسی کو بھی عمر کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے پھر چاہے مرد ہو یا عورت بیماری کا تعلق کسی جنس سے منسوب نہیں۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایشیا میں سب سے زیادہ چھاتی کا سرطان پایا جاتا ہے۔ لاعلمی ہچکچاہٹ اور شرم جیسے احساسات کی وجہ سے پاکستان میں سب سے عام سرطان چھاتی کا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان سے مرنے والی خواتین کی شرح 26.76 فیصد ہے اور یہ شرح اموات پاکستان میں دنیا بھر کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔ چھاتی کے سرطان کے باعث ہر سال 16 ہزار خواتین دنیا فانی سے رخصت ہو جاتی ہیں ياد رکھئے اس مرض سے لڑنا مشکل ضرور ہے مگر نا ممکن ہر گز نہیں بروقت تشخیص سے علاج آسان ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں