26

پاکستان کیلئے ایک اور بڑا اعزاز، بلاول بھٹو نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی صدارت کی

پاکستان کیلئے ایک اور بڑا اعزاز، دنیا کے نوجوان وزرائے خارجہ کی کانفرنس کی سربراہی کے بعد وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کی
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے تنظیم تعاون اسلامی کے سالانہ کوآرڈینیشن اجلاس کی سربراہی کے موقع پر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا
انہوں نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر تنازعہ کے پرامن حل کے لئے بھارت کے ساتھ مخلصانہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لئے تیار ہیں تاہم اس طرح کے مذاکرات کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر ہے، بھارت کو 5 اگست 2019 سے شروع کئے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو منسوخ کرنا چاہئے اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا چاہئے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر ہمارا مشترکہ کاز ہے، جموں و کشمیر اور پاکستان جغرافیہ، عقیدے، تاریخ اور ثقافت کے لحاظ سے جڑے ہوئے ہیں، کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان کشمیر ہے، جموں و کشمیر پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی تھی کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے کے ذریعے اپنے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے حصول کا موقع دیا جائے گا تاہم بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کا احترام کرنے کے اپنے وعدے سے مکر گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے جموں و کشمیر کی اندرونی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو کمزور کرنے کے لئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کئے ہیں، بھارت نے وہاں اپنی 9 لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے اور وحشت اور مظالم کا بازار گرم کر رکھا ہے جس میں کشمیریوں کا ماورائے عدالت اور حراستی قتل بھی شامل ہے۔15 ہزار کشمیری نوجوانوں کا اغوا ، ان پر تشدد ، پوری کشمیری سیاسی قیادت کو قید کرنا ،گاؤں اور محلوں کو اجتماعی سزا کے طور پر جلانا جیسے مظالم کئے جا رہے ہیں، جبر کی یہ مہم ہندوتوا کے نظریے اور مسلمانوں سے نفرت کی بنیاد پر چلائی جاتی ہے۔

جینوسائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کے خدشات سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے بعد بھارت کی نوآبادیاتی الحاق کی مہم کامیاب نہیں ہوئی اور بھارت کبھی کامیاب نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ کی مرضی سے جموں و کشمیر کے عوام آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے اپنی دلیرانہ جدوجہد میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک دنیا کو درپیش سیاسی، اقتصادی، آب و ہوا اور دیگر چیلنجز کے لئے اجتماعی اور مربوط ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ 1945 میں اسلامی ممالک جنگ کے بعد کے عالمی نظام کی تشکیل میں اپنے عوام کے اہم مفادات کا اظہار، وکالت یا دفاع کرنے سے قاصر رہے۔ ہم میں سے اکثر ممالک اقوام متحدہ کے منشور کی تشکیل میں شامل نہیں تھے، اس کے نتیجہ میں کوئی بھی اسلامی ملک ویٹو کے حقوق کے ساتھ سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم کے طور اپنے ہر رکن ممالک کی قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس مقصد کے لئے ہمیں اقوام متحدہ اور او آئی سی کے منشور میں شامل امن و انصاف کے اصولوں کی ہمہ گیر اور مستقل پابندی کو یقینی بنانا چاہئے، ہمیں اسلامی دنیا کے اندر اورباہر تمام تنازعات میں انصاف کے ساتھ امن کو فروغ دینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین ہمارا مشترکہ کاز ہے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ او آئی سی کا مقصد مقبوضہ فلسطین کے لوگوں کے لئے امن اور انصاف کو فروغ دینا اور القدس الشریف کو آزاد کرانا ہے، ہمیں فلسطین میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے حق خود ارادیت کا تحفظ کرنا چاہئے، ان کی اپنی ریاست ہونی چاہئے جس کی 1967 سے پہلے کی سرحدیں ہوں اور القدس الشریف کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنایا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت 40سال کے بعد افغانستان اور خطے میں پائیدار امن و سلامتی کی بحالی کا حقیقی موقع ہے، آج کوئی خانہ جنگی نہیں ہے، ایک حکومت پورے ملک کو کنٹرول کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پیشرفت کو آگے بڑھانا چاہئے اور ان قوتوں کو روکنا چاہئے جو تنازعات کو بحال کرنے، مزید پناہ گزینوں کو پیدا کرنے اور دہشت گردی کے خطرے میں شدت لانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر 19 دسمبر 2021 کو اسلام آباد میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 17 واں غیر معمولی اجلاس بلایا تھا،ہم نے مل کر اس بات پر اتفاق کیا کہ او آئی سی افغانستان کے لوگوں کی مدد میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے اور اسے ضرور ادا کرنا چاہئے، ہم نے او آئی سی ہیومینٹیرین ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کا خصوصی ایلچی مقرر کرنا، افغانستان کیلئے فوڈ سیکورٹی پروگرام شروع کرنا اور کابل میں او آئی سی کے مشن کو تقویت دینا بھی شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان میں امن کی بحالی ، اقتصادی اور سماجی ترقی کو بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، افغانستان کی انسانی صورتحال سے نمٹنے کا واحد راستہ کابل حکام کے ساتھ بات چیت ہے، افغان حکام کو او آئی سی پر کسی بھی دوسری بین الاقوامی تنظیم سے زیادہ اعتماد ہے، او آئی سی کے علمائے کرام کے وفد نے کابل کا دورہ کیا اور وہاں کے حکام سے تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری رضامندی اور سعودی عرب کی حمایت سے ہم خصوصی ایلچی کے دفتر کو چلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے اور علاقائی اور دیگر ممالک کا دورہ کیا ہے، میں اس کی رپورٹس موصول ہونے کا منتظر ہوں۔

انہوں نے عالم اسلام کے اندر کئی حل طلب تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، یمن سے شام تک مسلم دنیا اکثر غیر ملکی مداخلت کے نتیجہ میں تنازعات اور تشدد کی لپیٹ میں ہے، آج کے 70 فیصد سے زیادہ عالمی تنازعات اور سیکورٹی چیلنجز او آئی سی ممالک کے اندر ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ اسلامی دنیا میں امن و سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنے ادارہ جاتی فریم ورک اور طریقہ کار وضع کرے، یہ ضروری ہے کہ ہم اس بات کی نشاندہی کریں کہ او آئی سی کس طرح مسلم دنیا کے اندر اور باہر تنازعات کی روک تھام، ثالثی، مفاہمت اور امن کی تعمیر کو فروغ دینے کے لئے ضروری آلات سے لیس کر سکتی ہے۔انہوں نے او آئی سی کے امن و سلامتی کے ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال کرنے پر بات چیت پر خوشی کا اظہار کیا جیسا کہ اسلام آباد اعلامیہ میں کہا گیا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے دوران او آئی سی ممالک کو دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر کوویڈ 19 وبائی مرض سے بحالی کے تین گنا چیلنج، ایس ڈی جیز کی کامیابی اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے کام کرنا چاہئے، جیسا کہ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں کے نتیجہ میں انتہائی المناک صورتحال سامنے آئی ہے، موسمیاتی تبدیلی انسانیت کے وجود کیلئے خطرہ ہے، ہم اسلامی دنیا میں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کے لئے فراخدلانہ مدد کی، پاکستان اپنے عوام کی بہادری کی وجہ سے مضبوط اور بہتر ہو کر ابھرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ ہمارا او آئی سی کا رکن ملک مصر سالانہ موسمیاتی مذاکرات کا میزبان ہے اور آئندہ سال اس حوالہ سے کوششوں کی قیادت کرے گا، پاکستان ان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ کوپ۔27 سیاسی عزم کی تجدید کرے گا اور 100 ارب ڈالر سے زائد جس کا موسمیاتی سرمایہ کاری کیلئے وعدہ کیا گیا تھا ،کو متحرک کرنے کے لئے ذرائع کو بروئے کار لائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ موافقت کے لئے نصف مختص کریں، ترقی پذیر ممالک کو نقصان کی تلافی کے لئے مالیاتی سہولت فراہم کی جائے، صنعتی ممالک پر زور دیں کہ وہ 2050 تک خالص منفی کاربن کا اخراج کریں اور ترقی پذیر ممالک کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اضافی اخراجات کے لئے فنڈ فراہم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں