protest in national assembly 14

تین بڑے ایوانوں میں مہنگائی کی گونج،پٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کاسینیٹ،قومی،پنجاب اسمبلی میں احتجاج، واک آئوٹ

اسلام آباد،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی گونج تین بڑے ایوانوں میںسنائی دینے لگی ، اپوزیشن اراکین نے سینیٹ،قومی اور پنجاب اسمبلی میں قیمتوں میں اضافے کیخلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کیا،قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کیا اورپلے کارڈز اٹھا کر شدید نعرے بازی کی، پلے کارڈز پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ اور پیٹرول مہنگا وزیراعظم چور کے الفاظ بھی درج تھے، اپوزیشن ارکان کی جانب سے” گو عمران گو” اور” گلی گلی میں شور ہے عمران خان چور ہے “کے نعرے بھی لگائے گئے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں ہوا،وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، اپوزیشن ارکان نے پلے کاررڈز اٹھا رہے تھے جن پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ درج کیاگیا تھا، جبکہ پلے کارڈ پر پیٹرول مہنگا وزیراعظم چور کے الفاظ بھی درج تھے، اپوزیشن ارکان نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف نعرے بازی بھی کی،اپوزیشن ارکان نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نامنظور،گو عمران گو،گلی گلی میں شور ہے عمران خان چور ہے کے نعرے لگائے گئے، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ آج پھر پیٹرول کا بم چلا دیا گیا ہے اس عوام کا کیا بنے گا،پاکستان کی عوام پر رحم کریں، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے ضمنی سوال کرنے کا موقع ملنے پر کہا کہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری بتادیں کہ وہ آپ گینگ کب پکڑیں گے جو روز پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے ضمنی سوال کا موقع ملنے پر کہا کہ وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں،بعد ازاں خواجہ آصف نے دوبارہ بات کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات جاری ہے کوئی یہاں پر وزیرنہیں ہے،یہاں وزرا کو موجود ہونا چاہیے، مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتیں جو آج بڑھی ہیں اگر اس ایوان نے اس پر بحث نہیں کرنی تو کیا بحث کرنی ہے؟ ہم اس سیشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں،ڈپٹی اسپیکر نے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کو بات کرنے کا موقع دیا، اس موقع پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آئوٹ کردیا اور بعض اپوزیشن ارکان کورم کی نشاندہی کرتے رہے، جبکہ ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔ادھر ایوان بالا میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ اپوزیشن لیڈرسینٹر یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ایک ماہ میں پٹرول کی قیمت دو مرتبہ بڑھی ہے اس سے پہلے بھی کئی بار پٹرول کی قیمت بڑھ چکی ہے یہ تومسلسل منی بجٹ آرہے ہیں غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے یہ بہت بڑا المیہ ہے۔قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ پٹرول کی قمیت کی عالمی قیمت ملک کی کسی حکومت کے ہاتھ میں نہیں صرف پاکستان نہیں باقی دنیا میں بھی اس پر دباو ہے ،حکومت نے کوشش کی کہ عوام پر بوجھ کم کرکے خود زیادہ بوجھ اٹھائیں۔ جن ملکوں میں تیل نکلتا ہے وہاں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔سینٹر رضاربانی نے کہاکہ وزیر خزانہ ایوان میں آئے لیکن ان میں ہمت نہیں تھی کہ وہ مہنگائی پر جواب دیں سکیں، وزیر خارجہ کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ آکر افغانستان پر ایوان کو اعتماد میں لیں۔ وزیر خزانہ کے لیے یہ صرف 4 روپے ہیں، 5 روپے ہیں کیونکہ وزیر خزانہ نے کبھی غریبوں کا حال نہیں دیکھا، حکومت آئی ایم ایف میں دیکھنے کی بجائے غریبوں کی آنکھوں میں دیکھے۔شیری رحمان نے کہاکہ اصل سونامی تو یہ آ رہا ہے ،عوام کو بچانے کا کوئی منصوبہ نہیں حکومت عوام پر رحم کرے، حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں سوائے یہ کہ آئی ایم ایف اور سعودی عرب سے قرضہ لے۔ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہاکہ مالی سال دوہزار اکیس بائیس میں مردم شماری کے ابتدائی مرحلے کے لیے 5 ارب روپے رقم مختص کی گئی ہے یہ پیسہ اس سال کا ہے، گلے سال مزید رقم مختص ہو گی مردم شماری کے لیے پیسوں کی کمی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ہماری کاوش سے ڈیبٹ ٹو جی ڈی پی کم ہوا، امید ہے اس سال گروتھ ریٹ 5 فیصد یا اس سے زیادہ رہے گی۔وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے توجہ دلا نوٹس پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کی ناقص عمارت بنائی گئی تمام کمیٹیوں نے یہ معاملہ اٹھایا سپریم کورٹ نے معاملہ انکوائری کے لئے نیب اور ایف آئی اے کو بھجوایا گیا نیب اور ایف آئی اے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کی انکوائری کر رہی ہے ،ائیرپورٹ کی ناقص تعمیر میں ملوث ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ بعد میں چیئر مین سینٹ نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔علاوہ ازیں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں پر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں چور چور کے نعرے گونج اٹھے۔ وزیر اعظم کے خلاف بولنے پر حکومتی ارکان نے بھی نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاجا ایوان سے واک آئوٹ کر دیا۔پینل آف چیئرمین میاں شفیع کی زیر صدارت اجلاس 2 گھنٹے 5 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر 15 روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، دیگر ممالک کی مثال دیتے ہیں تو ان کے عوام کے آمدن کا بھی بتائیں۔مسلم لیگ ن کے رانا مشہود احمد نے کہا کہ پنجاب کے عوام جھولیاں اٹھا اٹھا کر حکمرانوں کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔ رانا مشہود کے وزیراعظم کے خلاف بولنے پر حکومتی ارکان نے نعرے بازی شروع کردی۔ جس کے جواب میں اپوزیشن ارکان اسمبلی بھی کھڑے ہو کر احتجاج کرنے لگے۔ اپوزیشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔ صوبائی وزیر چودھری ظہرالدین نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج بھی خطے میں سب سے کم ہیں۔ اس سیقبل اپوزیشن نے واک آوٹ کرتے ہوئے کورم کی نشاندہی کی، حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام ہوئی، جس پر پینل آف چیئرمین میاں شفیع نے اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں