24

شاہراہوں کے 5بڑے منصوبے خطے میں روڈ انفراسٹرکچر کا نقشہ بدل دینگے،علی تاج

گلگت ، ترجمان وزیراعلی گلگت بلتستان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جامع ترقیاتی پلان کے تحت وزیراعلی خالد خورشید کی جانب سے گلگت بلتستان کے لئے منظور کرائے گئے شاہراہوں کے 5 بڑے منصوبے اگلے پانچ سالوں میں خطے میں روڈ انفراسٹرکچر کا نقشہ بدل دینگے۔
تفصیلات بیان کرتے ہوئے ترجمان وزیراعلی نے کہا کہ نئی تعمیر ہونے والی شاہراہوں کی کل لمبائی 572 کلومیٹرز جبکہ لاگت 85 ارب ہے۔یہ منصوبے درجہ ذیل ہیں گلگت شندور روڈ، کل لمبائی 210 کلومیٹر، لاگت 50 ارب، استور ویلی روڈ، کل لمبائی 121 کلومیٹر، لاگت 19 ارب داریل تانگیر روڈ ، کل لمبائی 116 کلومیٹر، لاگت 6 ارب ،شغرتھنگ گوریکوٹ روڑ،کل لمبائی85 کلومیٹر،لاگت5 ارب ،شاہراہ نگر، 40 کلومیٹر، لاگت 4.5 اربانہوں نے مزید بتایا کہ یہ تمام منصوبے تمام تر متعلقہ فورمز سے 6 ماہ کے قلیل مدت میں منظور ہوئے، تمام کے انتظامی اپروول ہوچکے، کئی کے ٹینڈرنگ کا عمل شروع ہوچکا۔ اور اس میں شامل سب سے بڑے منصوبے کی ٹینڈرنگ کا عمل بہت جلد مکمل ہونے والا ہے۔ انشا اللہ، رواں مالی سال تمام منصوبوں پر کام کا باقائدہ آغاز ہوگا۔سابق حکومت کی نااہلی واضح کرتے ہوئے ترجمان وزیرعلی نے کہا کہ سابق حکومت اپنے پانچ سالہ دور میں ماسوائے شہر گلگت و چلاس کی چند کلومیٹر سڑک کی تعمیر کے ایک بھی بڑی سڑک تعمیر کرانے میں ناکام رہی تھی۔ انہوں نے جاری منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ بہترین کوآرڈینیشن کی وجہ سے نلتر ایکسپریس وے 55 کلومیٹر اور جگلوٹ سکردو روڈ 162 کلومیٹر پر جاری کام کو بھی وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کی موجودہ حکومت بڑی تیزی سے مکمل کرا رہی ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ تھاکوٹ رائیکوٹ روڈ و تتہ پانی متبادل سڑک دیگر اہم منصوبوں میں شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں