48

طاقتیں تمہاری ہیں اور اللہ ہمارا ہے، فتح افغانستان حصہ دوم

‏از قلم : ملک محمد اسد
@Asadyaat
طالبان کی فتح دنیا پر حیرت بن کر ٹوٹی، کچھ کے لیے خوشگوار اور زیادہ کے لیے انتہائی ناگوار، یو‌ں تو اس فتح کے اثرات تاریخ پر ہمیشہ رہیں گے، لیکن خطے پر اس کے کیا اثرات ہونگے؟ آج اس پر تھوڑی بحث کر لیتے ہیں
جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا اس وقت دنیا ان دو خطوں کو بغور دیکھ رکھی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان ہے، پاکستان جو خطہ کا گیم چینجر ہے، پہلے ہم نے بات کی کہ کس طرح پاکستان نے اللہ کی مدد سے امریکہ کو امریکہ کے ہی ذریعہ طالبان کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرایا اور اس کے پیچھے کونسی طاقتیں کارفرما تھیں، آج ہم اس پر بات کریں گے کہ خطہ میں کون سے ممالک اس فتح سے براہ راست یا بلاواسطہ متاثر ہونگے
تو سب سے پہلے سب سے زیادہ پاکستان خود اس فتح سے متاثر ہوگا، امریکہ چپ نہیں بیٹھنے والا، فی الحال ایک چوٹ کھائے درندے کی طرح اپنے زخم. چاٹنے میں مصروف ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ امریکہ بیر نہیں بھولتا اور پھر امریکہ کی ٹشو پیپر پالیسی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، یوں بھی سازشیں تو کافی وقت سے چل رہی ہیں، پاکستان کی دوری بڑھتے ہی امریکہ نے نیا گھوڑے پر داؤ لگا دیا، یعنی بھارت، لیکن بھارت کو یہ معلوم نہیں کہ امریکہ کی دشمنی سے زیادہ امریکہ کی دوستی خطرناک ہوتی ہے
خیر پاکستان میں ایک بار پھر ٹی ٹی پی طرز کی تنظیمیں اٹھانے کہ کوشش کی جائے گی جو زیادہ کامیاب نہیں ہو سکیں گی اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی پیش بندی کے طور پر افغان بارڈر باڑ لگا کر سیل کرچکا ہے اور دوسری طرف طالبان سے تعلقات بھی بحال ہیں کیونکہ پاکستان ان چارملکوں میں ہے جنہوں نے تاحال اپنے سفارتخانے افغانستان میں بند نہیں کئے، چاہے منہ سے کچھ نہ بولا جائے لیکن کسی ملک میں سفارت خانہ کھلا رکھنا وہاں کی حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا ہے اور اس امر سے باہمی اعتماد ظاہر ہوتا ہے، اس حربے کی ناکامی کے بعد امریکہ کے پاس دوسرا حربہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا ہوگا دوسری طرف پاکستان میں ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے نازک معاملہ شیعہ سنی کا ہے
اس فتح کا دوسرا سب سے بڑا متاثرہ ملک بھارت ہوگا، جو ابھی سے نظربھی آ رہا ہے، بھارت کا رونا دھونا پیٹنا اور چیخنا بلاوجہ نہیں، ایک تو انکی تمام سرمایہ کاری ڈوبی دوسرا انہیں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ افغانستان میں جہاد ختم ہو گیا اب مجاہدین کا فوکس کشمیر ہوگا اور اگر مجاہدین افغانستان سے نہ بھی آئے تو جہاد کشمیر کو ایک نئی روح میسر ہوگی کہ اگر مٹھی بھر طالبان دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں تو کشمیری کیوں نہیں؟
بھارت کو اقتصادی نقصان تو ابھی سے ہونا شروع ہو چکا ہے جو انکی سرمایہ کاری ڈوبنے کے نتیجہ میں ہو ا دوسرا یہ کہ بھارت نے بھی دیگر کئی ممالک کی طرح افغانستان کے حالات کا غلط اندازہ لگایا اور انہیں یہی لگا کہ طالبان فتح یاب نہیں ہوں گے، اس لیے انہوں نے طالبان کے جیتنے سے پہلے ہی ان سے اپنے تعلقات شدید خراب کرلئے، اب بھارت سی پیک میں تو شامل ہونے سے رہا، لیکن ساتھ ہی روس چین اور پاکستان کے بلاک کی وجہ سے وسطی ایشیائی منڈیوں تک اور طالبان کی وجہ سے ایران تک رسائی بھی کھو دے گا. بھارت جہاں روس سے محروم ہوا وہیں پاکستان کو نئی منڈیاں میسر ہو گئیں اور یہ امر بھی بھارت کے لیے باعثِ پریشانی ہوگا
افغانستان قدرتی وسائل سے مالاما ملک ہے جن سے زیادہ فائدہ پاکستان اور چین اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان دونوں کو افغانستان میں زیادہ رسائی حاصل ہوگی اس طرح افغان عوام کی ترقی خطے کی ترقی کی بھی ضامن ہوگی
تیسرا متاثر ملک روس ہوگا، لیکن روس اس معاملہ میں اچھی طرح سے متاثر ہونے گا، یعنی افغانستان میں استحکام ہونے کی وجہ سے روس کو گوادر بندرگاہ تک رسائی حاصل ہوگی، مزید روس کو ایران، چین، ترکی اور پاکستان کی صورت میں نئی منڈیاں بھی میسر ہوں گی جن کے لیے روس کا بھارت کو چھوڑنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، روس کو پہلے ہی امریکی پابندیوں، دگرگوں معاشی حالات اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے اور یہ مسائل معیشت میں بہتری سے حل ہو سکتے ہیں
اب رہ گیا ایران اور ترکی تو ترکی نے بھی بھارت کی طرح غلطی کی اور طیب اردوان نے حالات کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے طالبان کے خلاف بیان داغ دیا، جس پر طالبان کی طرف سے دھمکی آمیز جواب ملا تو ترک صدر کو سبکی اٹھاتے ہوئے بیان کی وضاحت کرنا پڑی یا یوں سمجھیں بیان واپس لینا پڑا، ترکی نے بہرحال اس معاملہ پر قابو پا لیا اور طالبان نے بھی ترکی کو تعاون کا یقین دلایا، یوں ترکی بھی سی پیک تک پہنچ سکے گا ساتھ ہیں روس چین اور پاکستان تک زمینی رستہ میسر ہوگا
ایران جس کو پہلے ہی پابندیوں کا سامنا ہے، چین اور پاکستان اس کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے ثابت ہوئے، اس لیے ایران بھارت سے دور ہوا، ایران کو ایک غیر مستحکم ہمسایہ سے اتنا ہی دشواری کا سامنا تھا جتنا کہ پاکستان کو، شیعہ سٹیٹ ہونے کی وجہ سے ایران کو. طالبان حکومت سے خدشات تھے لیکن طالبان نے آتے ہی کافی حد تک خدشات دور کر دیئے، طالبان کی زیر نگرانی افغانستان میں محرم کے جلوس اور اعزا کی محافل ہوئیں جس سے یہ تاثر واضح ہوا کہ طالبان اینٹی شیعہ نہیں ہیں، مزید طالبان نے ایران کو تعاون کی اور تجارت کی بھہ یقین دہانی کرادی ہے
تو اگر صرف خطہ دیکھا جائے تو خطہ میں اس جیت سے سب سے بڑا نقصان بھارت نے اٹھایا اور یہ نقصان تو بس شروعات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں