afghsnistan is free 40

بیس برس بعد افغانستان امریکی تسلط سے مکمل آزاد ہوگیا

کابل ، کابل سے آخری طیارے سی 17، جس میں امریکی سفیر بھی سوار تھے، کی پرواز کے ساتھ ہی افغانستان سے امریکا کا انخلا مکمل ہو گیا۔ طالبان نے امریکیوں کے انخلا کی خوشی کا جشن ہوا میں فائرنگ کر کے منایا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے اعلی کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی نے پینٹا گون میں 31 اگست منگل کی اولین ساعتوں میں افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت ممکن ہو کہ اس سے بہت سے لوگوں کو مایوسی ہوئی ہو تاہم یہ بہت مشکل صوت حال ہے۔انہوں نے بتایا کہ آخری طیارے میں بچے ہوئے فوجیوں کے ساتھ ہی کابل میں امریکی سفیر بھی سوار ہوئے اور امریکا روانہ ہو گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سے لوگ افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں وہ وہاں سے نکالنا چاہتا ہے اور اس کی یہ کوششیں آگے بھی جاری رہیں گی۔امریکا نے 2001 میں نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا اور اس طرح تقریبا بیس برس بعد اس نے اپنی فوجیں واپس بلا لیں اور اس کے ساتھ ہی افغانستان میں ایک طویل جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ پینٹا گون میں امریکی انخلا کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے جنرل کینتھ میکنزی نے کہا، ”میں یہاں افغانستان میں امریکی فوجی مشن کے خاتمے، ان کے انخلا کی تکمیل اور امریکی شہریوں کے انخلا کے بارے میں اعلان کے لیے ہوں۔”ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم ہر اس شخص کو باہر نہیں نکال سکے جن کا انخلا ہم چاہتے تھے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اگر ہم مزید 10 دن اور رکتے، تو بھی ہم ہر اس شخص کو نہیں لا سکتے جنہیں ہم باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ اور پھر لوگ اس سے مایوس بھی ہوئے ہوں گے۔ یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔”پیر کی درمیانی شب اور منگل کی علی الصبح جیسے ہی امریکا کے آخری جنگی طیارے سی 17 نے کابل سے واپسی کی تیاری شروع کی، طالبان نے حامد کرزئی ایئر پورٹ کی سکیورٹی اپنے کنٹرول میں لے لی۔ طالبان قیادت نے اس امریکی اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ افغانستان کو اب مکمل آزادی حاصل ہو گئی ہے۔ انہوں نے اسے، ”تاریخی لمحہ” قرار دیا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ”آج کی شب افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق 12 بجے، باقی بچے ہوئے امریکی فوجی بھی کابل ایئر پورٹ سے نکل گئے اور اس طرح ملک مکمل طور پر آزاد ہو گیا۔” گزشتہ رات12بجے آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے نکل گیا،کابل ایئرپورٹ مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں آچکا ہے،بیرونی تسلط کیخلاف طالبان کی کامیابی کا آخری ہدف حاصل کرلیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آخری پرواز کے فورا بعد کابل شہر کی مختلف چیک پوائنٹوں پر جشن منانے کے لیے فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ اس حوالے سے بہت سی غیر مصدقہ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں جس میں طالبان جنگجوں کو ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکا امریکی، افغان اور دیگر ایسے افراد کی مدد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ تقریبا 200 امریکی شہری اب بھی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔بلنکن نے کہا کہ کابل میں امریکی سفارتخانہ مستقبل قریب تک بند رہے گا اور وہ امریکی سفارت کار جو کابل کے سفارت خانے میں کام کیا کرتے تھے، اب وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود رہیں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر زور دیا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد بھی جو افغان شہری ملک چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔ حالانکہ سکیورٹی کونسل میں اس حوالے سے پیش ہونے والی قرارداد میں اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے اور چین اور روس نے اس کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔طالبان نے کہا کہ وہ ایک بار کابل ایئر پورٹ کی سکیورٹی سنبھال لیں اس کے بعد کسی بھی شخص کو معمول کے مطابق سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں