75

آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے مثالی بجٹ پیش

تحریر:عدنان مختار
ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر بھمبر وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے آزاد کشمیر کا مثالی بجٹ پیش کیا ہے جیسے تمام مکاتب فکر کی طرف سےقدر کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے،جہاں وزیر اعظم نے ہر شعبہ زندگی کےلئے آسانی پیدا کرنے کی پوری تگ و دو کی ہے وہیں میر پور ڈویژن میں قرآن اکیڈمیز بنانے کا اقدام لائق تحسین ہے قرآن اکیڈمیز کے قیام سے قرآن پاک کی تعلیمات،تفسیر اور زندگی کا مقصد واضح ہو گا،میر پور ڈویژن میں 500 بیڈزکا ماڈل ہسپتال،سیاحت،تاریخ میں پہلی بارنوجوانوں کو قرضہ سکیم متعارف کروائی گئی،بجٹ کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر حکومت کے عوام دوست بچٹ 23-2022 کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں جس میں ترقیاتی بجٹ میں 2 ارب کا اضافہ،ساڑھے 28 ارب ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص،رحمت العالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم اتھارٹی قیام کے لیے رقم مختص ،Skilled یونیورسٹی مظفرآباد کے قیام کے لیے بجٹ میں رقم مختص،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ،15 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس کی ادائیگی،پنشن میں بھی 15 فیصد اضافہ،اضلاع کی سطح پر کالج انڈسٹری کے لیے 50 کروڑ مختص،جہیز فنڈ 12000 سے بڑھا کے 75000 کر دیا گیا ہے،آزاد کشمیر میں ایک سال تک بجلی ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا،مذہبی سیاست کے فروغ کے لیے درگاہوں کو جدید طرز پر تعمیر کیا جائے گا،آزاد کشمیر کے تین بڑے شہروں میں جدید طرز کے آئی ٹی ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں گے،میرپور میں 500 بیڈز کا ماڈل اسپتال قائم کیا جائے گا،آزاد کشمیر میں رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کے لیے فنڈز مختص کر دیئے،آزاد کشمیر میں پرائیویٹ ایئرلائن شروع کی جائے گی،میرپور میں 500 بیڈز کا ماڈل اسپتال قائم کیا جائے گا،مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں فی کس 1500 روپے کا اضافہ کریں گے،آزاد کشمیر کے 1 لاکھ حفاظ،قراء کے لئے اکیڈمیز قائم کی جائیں گی،آزاد کشمیر کے تین بڑے شہروں میں آئی ٹی ٹریننگ سنٹر قائم کیے جائیں گے،آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار نوجوانوں اور خواتین کے لیے تاریخی قرضہ سکیم متعارف،496 معلمین قرآن کو سکیل 1 میں مستقل کرنے کا فیصلہ،ایم این سی ایچ پروگرام کو نارمل میزانیہ پر لانے ک تاریخی فیصلہ،ہزاروں ملازمین کے گھر کا چولہا بجھنے سے بچا لیا گیا،آئی ٹی ملازمین کے دیر پا معاملہ کو یکسو کرنے کا فیصلہ،خواتین کو 30 کڑور روپے کی خطیر رقم سے انتہائی آسان شرائط پر قرضہ سکیم کی منظوری،خواتین کے لیے ٹورزم اور صنعت و حرفت میں سپیشل اکنامک زون کے قیام کا فیصلہ،نوجوانوں کو کاروبار کے لیے 70 کڑور روپے کی خطیر رقم سے قرضہ جات دیئے جائیں گے،نوجوان قرضہ سکیم کے تحت ہزاروں نوجوان اپنا کاروبار شروع کر سکیں گے،سیاحت کے فروغ اور اس کے ذریعے مقامی سطح پر روزگار کی فراہمی کے لیے اقدامات کا فیصلہ،5 اضلاع اور 17 تحصیلوں میں مفتی صاحبان کی تقرریوں کا اعلان، مظفرآباد،میرپور اور بھمبر میں قرآن اکیڈمیز کا قیام عمل میں لانے کا اعلان،کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کے تعاون سے میرپور میں مستحقین کے لیے پہلے مرحلہ میں فلیٹس کی طرز پر 900 گھر بنائے جائیں گے،بجلی بلات سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ٹیکس ختم حکومت نے ریاست بھر کی مساجد کو مفت بجلی کی فراہمی کی قرارداد منظور کرلی،ٹورزم پولیس کے لیے 300 نئی آسامیاں،آزاد کشمیر پولیس کے لیے 700 نئی آسامیاں،پولیس کو ٹریننگ کورس کروائے جائیں گے،پولیس کو یونیفارم فراہم کریں گے،پولیس ملازمین اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے لیے میرپور میں 500 گھر بنائے جائیں گے،جن میں سے 250 پولیس ملازمین اور 250 گھر دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو دیئے جائیں گے۔مذہبی ٹورزم کے فروغ کے لیے مزارات اور دیگر اہم مقامات پر کمپلیکس تعمیر کرنے کا اعلان،وزیر اعظم کا آزاد خطہ کی تعمیر و ترقی کے لیے تاریخی منصوبوں کا اعلان،مہاجرین گزارہ الاؤنس میں فی کس 1500 اضافے کا اعلان،زکوۃ کی رقم فی ماہ 3000 روپے،جہیز فنڈ 12 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار کرنے کا اعلان،پریس فاؤنڈیشن کے لیے 5 کڑور روپے گرانٹ دی جائے گی،صحافیوں کی فلاح و بہبود اور وفات پا جانے والے صحافیوں کے ورثاء کو 2 کڑور روپے دیئے جائیں گے،صحافیوں کے لیے کالونیوں کی تعمیر سمیت ان کے مسائل حل کیے جائیں گے،اشتہارات کی مد 20 کڑور روپے دیئے جائیں گے،ہمارے خون اور غیرت کو نہ للکارا جائے جس نے اسلام کا علم بلند کیا ہوا سے شکست نہیں دی جا سکتی،مسلمان شہادت کو اعزاز سمجھتا ہے سید علی گیلانی،برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،ہندوستان جان لے جا قوم کی مائیں شہید اور غازی پیدا کریں اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا،مظفرآباد میں بجلی کا نظام انڈر گراؤنڈ کر رہے ہیں،بجلی کے ٹیرف آئندہ سال تک نہیں بڑھائیں گے،22 جون کو نیلم میں برفباری سے ہونے والے بکروال قبیلہ کے نقصان کا 50 فیصد حکومت آزاد کشمیر ادا کرے گی،نمبرداری نظام،پنجایت سسٹم کی بحالی سے معاشرتی مسائل میں کمی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں