225

‏آپ ٹھیک کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑتی ہے!

تحریر: اے کے انور خان
@AK_Anwar_Khan
ڈس انفارمیشن کے ذریعے سے پاکستانیوں کے اندر جو زہر بھرا جا رہا ہے اس کے خلاف ہم سب کو متحد ہو کر پاک فوج کو سپورٹ کرنا ہے اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کومنہ توڑ جواب دینا ہے!!! سمجھ جائیں آپ کے دشمن بہت مکار ہیں۔
جب دشمن نے کہا کہ وہ صبح کا ناشتہ لاہورمیں کرے گا تو ایک ماں کے بیٹے سے برداشت نہ ہوا ، اس نے اپنے طیارے کو کنڑول ٹاورسے رابطہ کئے بغیر آسمان کی بلندیوں میں لے جانے کے بعد 30 سیکنڈ کے قلیل وقت میں دشمن کے 3 طیارے تباہ کردئیے پھر یکے بعد دیگرے 2 مزید طیارے گرا کر عالمی ریکاڑد پاکستان کے نام کردیا یعنی ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے زمین پر راکھ کا ڈھیربنا دئیے۔ جس کے بعد دشمن فضائی جنگ ہار گیا دنیا آج اس شیر کو ایم ایم عالم کے نام سے جانتی ہے اس اکیلے شیر نے کسی بھی قسم کے نتائج کی پروا کئے بغیر بھارت کی تمام فضائیہ کو چھٹی کا دودھ یاد کرادیا اور
تم کہتے ہو کہ پاک فوج ڈالر کے لئے لڑ رہی ہے
آپ ٹھیک کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑتی ہے!
میجر عزیز بھٹی جس نے 65 کی جنگ میں 17 دن جنگ لڑی اور سینے پر ٹینک کا گولہ لگنے سے شہادت کا رتبہ حاصل کرلیا۔ اس شیر نے پاک وطن کا دفاع ایسی دلیری سے کیا کہ بھارتی فوج ایک انچ لاہور کی طرف نہ بڑھ سکی ۔ دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔
اور تم کہتے ہو کہ پاک فوج ڈالر کے لئے لڑ رہی ہے۔
آپ ٹھیک کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑتی ہے!
9 مارچ 2020 کی رات میں جب کرنل مجیب الرحمن شہید مادر وطن پر قربان ہوئے اور دس مارچ کو ان کا کا جسد خاکی جب انکے علاقے استور میں پہنچایا گیا۔ جانتے ہو ان کا 12 سال کا بیٹا کمانڈنگ آفیسر سے کہتا ہے کہ انکل میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو مت بتانا کہ میرے بابا کو کیا ہوا ہے۔ ایسے معصوم الفاظ کہ جو کسی پہاڑ سے بھی ٹکرائیں تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے ۔

اور تم کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑ رہی ہے۔
آپ ٹھیک کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑتی ہے!
وہ صوابی کے کپٹن کرنل شیر خان ہو یا گلگت بلتستان کے لالک جان وہ نشانہ حیدر پانے والا سپاہی سوار محمد حسین ہو یا پائلٹ راشد منہاس ہو۔ ان سب نے اپنی زندگیاں اس پاک وطن پر ایسے قربان کی کہ اپنا خون پانی کی طرح بہایا دیا
اور تم کہتے ہو کہ پاک فوج ڈالر کے لئے لڑ رہی ہے۔
آپ ٹھیک کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑتی ہے!
جب دوران جنگ کوئی فوجی دشمن کی قید میں چلا جائے تو وہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے سب راز دشمن ملک اداروں کو دے سکتا ہے ( جیسے بھارتی جاسوس کلبھوشن نے ایک تھپڑ بھی نہیں پڑا تھا کہ انڈیا کے سارے پلان اگل دئیے) ۔ لیکن قربان جاؤں پاک فوج کے اس شیر پر کہ جس نے اپنی زبان کٹوانی پسند کی لیکن پاکستان کے خلاف نعرہ لگانا گوارہ نہ کیا ۔ جانتے ہو سپاہی مقبول حسین چالیس سال دشمن بھارت کی قید میں کن تکلیفوں سے گزرے ہیں۔ اپنی زبان بھی کٹوا دی کیوں ؟
کیونکہ بھارتی اداروں کے اہلکاروں نے کہا تم ہمارے سامنے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہو ۔ آج کے بعد تم پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگاؤ گے۔ تو سپاہی مقبول حسین کے انکار پر خون خوار کتے آپ پر چھوڑے گئے۔
لیکن جب اس سے بھی دشمنوں کا دل نہ بھرا تو آپ کی زبان اور انگلیاں کاٹ دی گئیں ۔ جانتے ہو اس کے باجود اس شیر نے اپنے خون سے انڈیا کی جیل کی دیواروں کو پاکستان زندہ باد کے نعروں سے سرخ کردیا ۔ اسکے بعد چالیس سال ایسی کال کوٹھری میں بند رکھا کہ جس میں نہ لیٹ سکتے ہو نہ کھڑے ہو سکتے ہو۔
اور تم کہتے ہو کہ پاک فوج ڈالر کے لئے لڑ رہی ہے
آپ ٹھیک کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑتی ہے!
جانتے ہو ! زندگی میں سب سے مشکل وقت کونسا ہوتا ہے جب ایک بوڑھے باپ کے کندھوں پر جوان بیٹے کا جنازہ آتا ہےجب جوان بیٹا شہید ہو کرسبز پرچم میں لپٹے اپنے گھر پہنچتا ہے تو والدین کے سرفخر سے بلند ہوجاتے ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ایس آئی اسامہ لاشاری جس کی شہادت کے بعد اس کے نماز جنازہ پر اس کے باپ کے الفاظ نے مجھے خون کے آنسو رولا دیا۔ جانتے ہو کیا کہا تھا مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے کہ اس نے میرے اوپر بہت بڑا احسان کیا۔ یہ وہی اسامہ لاشاری ہے جس کلبھوشن کا نیٹ ورک توڑا تھا ۔ کی پوری ٹیم نے مل کر
کیپٹن بلال ظفر جوانی میں شہید ہوتا ہے ، شہادت سے ایک روز قبل اپنے دوست کیپٹن راحیل سے کہتا ہے دیکھنا تم غازی ہوگے اور میں شہید ہوں گا۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ اسد اظفر وزیرستان میں سینے پر گولی کھاتا ہے ، محاذ پر جانے سے پہلے ماں سے کہتا ہے ” میری شادی کی باتیں نہ کیا کرو میں نے ویسے بھی شہید ہوجانا ہے۔
تم اور کہتے ہو کہ پاک فوج ڈالر کے لئے لڑ رہی ہے
آپ ٹھیک کہتے ہو پاک فوج ڈالر کے لئے لڑتی ہے!
میجر جنرل ثنا الله نیازی گرم محاذ پر خود آگے جاتے ہیں ریموٹ کنٹرول بم حملے میں شہید ہوجاتا ہے۔ کیپٹن علی نوازاپنی ماں کو اپنی پسند کا بتاتا ہے کہ میں اپنی کزن سے شادی کرنا چاہتا ہوں ، کزن بھی پیارکرتی ہے خاندان میں شادی کی تیاری چل رہی ہوتی ہے تین دن بعد علی نے آنا ہوتا ہے پر جس دن مہندی ہوتی ہے اس دن علی وزیرستان میں شہید ہوجاتے ہیں۔ ایس پی امتیاز سرورکا اکلوتا بیٹا کپتان سلمان سرور ، باڑہ خیبر ایجنسی میں شہید ہوتا ہے ، ماں باپ کا اکلوتا لخت جگر بوڑھے باپ نے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھایا۔ سپاہی رضوان احمد بلوچستان میں شہید ہوئے ، جس دن جسد خاکی گھر آیا ایک اس دن ان کے گھر ماتم ہوا اور پھر جب تین ماہ بعد اس کے پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی تو پہلے سے زیادہ ماتم برپا ہوا۔
کتنے نام گنواؤں؟
لیفٹیننٹ کرنل عامر بیگ مرزا ، میجر عمر بیگ مرزا میجر اسحاق ، سپاہی غلام مرتضیٰ ، کیپٹن نجم ریاض ، کیپٹن راشد حکیم ، میجر عابد مجید ، سپاہی محمد اخلاق ، کیپٹن معراج ، کیپٹن عاصم ، کیپٹن یاسر عباس ، کیپٹن روح اللّٰہ ، کیپٹن قدیر ، کیپٹن عدیل ، کیپٹن بلال ظفر اور نجانے کتنے نام ہیں قلم خشک ہوجائے لیکن نام ختم نہیں ہوں گے۔
دوسال پہلے جب بھارت پاکستان پر حملہ امریکہ اور اسرائیل کی ایماء پر حملہ کرنا چاہ رہا تھا تو اس وقت اس کے طیارے رات کی تاریکی میں بالاکوٹ کے درختوں پر پے لوڈ گرا کر بھاگ گئے تھے۔ وہ رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے آئے تھے لیکن نہ کر سکے اور اگلی صبح دن کے اجالے میں تمہارے دشمنوں کو میجر جنرل آصف غفور للکار کر کہتا ہے۔ “اب وقت اور جگہ کا انتخاب ہم کریں گے” پھر آپ پاکستانیوں سمیت پوری دنیا نے دیکھا کہ وقت ضائع کئے بغیر چند لمحات میں کیسے پاک فضائیہ کے شیروں نے وقت اور جگہ کا انتخاب کیا اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ یہ تو وہ جانتے ہیں جن پر گزری اور جہنوں نے ان کے اوپر سے گزاری ۔
27 فروری 2019 کے دن جنرل قمر جاوید باجوہ اورمارخوروں نے مشرق سے لے کر مغرب تک پاکستان کے دشمنوں کو خاموش پیغام بھجوادیا ہم پر حملہ ہوا تو نتائج انڈیا سمیت تمام دنیا کو بھگتنا پڑے گے۔
تھوڑا سا سوچ لیں وہ لوگ جو کہتے ہے بجٹ میں زیادہ حصہ پاک آرمی لیتی ہے ارے خون کا بھی کوئی معاوضہ ہوتا ہے۔
پاکستان زندہ آباد
پاک افواج زندہ آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں