236

‏آن لائن تعلیم اور مہنگا انٹرنیٹ

تحریر: اے کے انور خان
@AK_Anwar_Khan
ملک کی ترقی کا دارو مدار اس ملک کی تعلیم پر ہوتا ہےجن اقوام نے تعلیم کو اہمیت دی وہی قومیں آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام ہیں کورونا وائرس جس کی ابتداء دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے ہوئی اور پاکستان میں اس کا آغاز فروری 2019 میں ہوا اس وائرس نے لاکھوں لوگوں کی جان لی ہے۔اس کی وجہ سے نہ صرف ملک کی معیشت پر اثر پڑا ہے بلکہ ملک کا تعلیمی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے کورونا کے باعث ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد احتیاط کے بعد شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹ کھول دے گئے ۔ لیکن اسکول بند رکھے گئے اور آن لائن تدریس کا سلسلہ جاری ہوا کتنے بچے ایسے ہیں جن کے پاس موبائل ،کمپیوٹر اور بنيادی سہوليات ہی نہیں اور اس وجہ سے وه اپنے تعلیم کے سلسلے کو جاری نہ رکھ سکے ۔
آن لائن امتحانات نے بچوں میں پھنے کی دلچسپی کو ختم کردیا ہے ۔ پاکستان کا نوجوان جو اس ملک کے معمار ہیں انہیں بغیر محنت کے پاس کردئیے جانے سے ملک کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے پاکستان کا تعلیمی نظام بلکل ناقص ہو چکا ہے ۔ بات یہاں تک آپہنچی کے اب طالب علم راويتی طریقے سے پیپر ہی نہیں دینا چاہتے ۔لاک داؤن کے ختم ہونے کے بعد جب طالب علم سے پیپر لینے کا اعلان کیا گیا تو طالب علموں نے احتجاج شروع کردیا اور آن لائن پیپر لینےکا مطالبہ کرنے لگے۔
کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے ۔یہ اس کی تیسری لہر ہے ۔ پاکستان میں اب دوبارہ سے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے تعلیمی ادارے بند ہیں ہیں اور سب سے زیادہ نقصان تعلیم کاہی ہے۔ لیکن انٹر نیٹ کی وجہ سے تعلیم وتدریس آن لائن جاری ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کے نقصان ہے وہاں اس کے فائدے بھی ہیں تعلیم کو جاری رکھنے ميں انٹرنیٹ کا اہم کردار ہے آن لائن تدریس سے یہ فائدہ ہے کہ ہربچے کو الگ الگ توجہ نہیں دینا پڑتی اور وقت کی بچت بھی ہوجاتی ہے ہر بچے کو استاد کی آواز صاف آتی ہےساتھ کم بولنے والے طالب جن میں خوداعتمادی کی کمی ہوتی ان کو بھی آن لائن تدریس میں بولنے کا موقع ملتا ہے۔
انٹرنیٹ کے نقصان بھی ہیں اور فائدےبھی بہت سے طالب علم اس کا مثبت استعمال کرکے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور بہت سے پوری رات اپنا قیمتی وقت برباد کررہے ہیں دور حاضر ميں طالب علم آن لائن تعلیم حاصل کررہے ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ تمام نیٹ ورک کے پیکجزز کو سستا کیا جائے تاکہ طالب علم آسانی سے تعلیم حاصل کرسکيں کیونکہ ہر طالب علم اتنے مہنگے پیکجزز روزانہ نہیں کراسکتا لہذا غریب بچوں کا خیال رکھا جائے تاکہ وه بھی تعلیم حاصل کرسکیں اور اپنے ملک کا نام روشن کرسکيں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں