16

‏بچیوں کا عالمی دن حقوق، برابری ، تحفّظ اور ترقی

تحریر: رقیہ نعیم
@NaeemRuqia
لڑکیوں کا عالمی دن ہرسال 11 اکتوبر کو منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد لڑکیوں کو درپیش مسائل، صنفی امتیاز اور ان کے لیے مساوی مواقعوں کی عدم دستیابی کی طرف توجہ دلانا ہے۔ دن منانے کی قرارداد اقوام متحدہ نے 19 دسمبر 2011 کو منظور کی، اس کے اگلے برس 11 اکتوبر 2012 سے یہ دن ہر سال باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں پرائمری اسکول جانے کی عمر والی 3 کروڑ 10 لاکھ بچیاں اسکول نہیں جا رہیں، دنیا بھر میں 15 سے 19 سال کی عمر کی ہر چار میں سے ایک لڑکی کو جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس عمر کی 30 فیصد لڑکیوں کو مختلف قسم کے تشدد کا سامنا ہے
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ 33 ہزار سے زائد کم عمر لڑکیاں جبری شادی کے بندھن میں باندھ دی جاتی ہیں، یہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس سے ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ تاہم اس رجحان میں اب کمی دیکھی جارہی ہے اور گزشتہ دہائی کے دوران 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کی شرح 25 فیصد سے گھٹ کر 21 فیصد رہ گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 21 فیصد بچیاں بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی بیاہ دی جاتی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ کم عمری کی شادیوں کی سب سے زیادہ شرح صوبہ سندھ میں ہے جہاں 75 فیصد بچیوں اور 25 فیصد بچوں کی جبری شادی کردی جاتی ہے۔ انفرادی طور پر کم عمری کی شادی کا سب سے زیادہ رجحان قبائلی علاقوں میں ہے جہاں 99 فیصد بچیاں کم عمری میں ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ نے اس دن کے حوالے سے لڑکیوں کے جن مسائل پر توجہ دی ہے، ان میں تعلیم، خوراک ، بچپن کی شادی، جبری شادی، قانونی اور طبی حقوق شامل ہیں یونیسکو کے مطابق عالمی سطح پر بچیوں کے حقوق کی صورتِ حال قابلِ اطمینان نہیں ہے۔ اس دن کو خاص طور پر بیٹیوں کے نام کرکے بیٹیوں میں یہ احساس پید اکرناہے کہ وہ ان چاہی نہیں ہیں ۔ معاشرے کے ان لوگوں کو، جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں، یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ بیٹیوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ہماری دنیا کے مسائل کے حل میں اپنا کر دار ادا کرسکتی ہیں۔ بہتر ماحول اور حقوق کے استعمال کا موقع ملے تو وہ حالات کو بدلنے کی امکانی صلاحیت رکھتی ہیں۔ معاشرہ بچیوں کی بہتر نشوونما کے لیے ساز گارماحول فراہم کرتا ہے تو یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ ہمارا مستقبل خوشحال ہوگا اور ہم پائید ارترقی کی سمت بڑھ سکیں گے۔
لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک، لڑکوں کو لڑکیوں پرترجیح، مساوی مواقع سے لڑکیوں کو محروم رکھنا ، یہ وہ رویے ہیں جو لڑکیوں کی نشو ونما اور ان کی صلاحیتوں کو جلا پانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جہیر اور لین دین کے بیجا اور بڑھتے ہوئے رواج نے بچیوں کے وجود کو بو جھ بنادیا ہے ۔ گھر یلو تشد د اوربچیوں پر تشد د کے واقعات اس بات کے مظہر ہیں کہ معاشرے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ لڑکیوں کے خلاف بڑھتے جنسی جرائم نے صورتِحال کو اور بھی خراب کردیا ہے۔ ننھی ننھی معصوم بچیاں بھی درندگی کا شکار ہونے لگی ہیں ۔
صنفی امتیازات کا شکار ، تعلیم اورمساوی مواقع سے محروم بوجھ سمجھی جانے والی یہ لڑکیاں جو غیر محفوظ ماحول میں ڈری سہمی ہوئی ہیں کیا یہ ہمارے خوابوں کی تعبیر کیسے دے سکیں گی۔ ایک دن بیٹی کے نام کرکے کیا ہم ان کو تحفظ دے پائیں گے ۔ کیا کچھ نعرے بلندکرکے ہم ان کے حقوق کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے سکیں گے ۔ معاشرے کی ذہنیت ایک دن منانے سے نہیں بدلی جاسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں