36

‏ظالم سماج

تحریر: نوید خان
‎@Naveedmarwat55
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
مُنصف ہو اگر تو حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔۔
میں اکثر سوچتا ہوں
اسلام کی آمد سے پہلے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو
وہ بڑا ظلم تھا؟
یا موجودہ زمانے میں
معصوم کلیوں سے جنسی درندگی کرنا اور پھر جان سے مار دینا بڑا ظلم ہے؟
گُٹھن زدہ اس ماحول میں جب بے چینی حد سے بڑھ جائے تو دل سوال کرتا ہے۔۔
آخر وہ کونسا مرض ہے جو حضرت انسان کو حیوان بنا دیتا ہے؟
کب تک ہم افسوس مذمت ماتم اور لعن طعن کرنے کے بعد خود کو بری الذمہ سمجھیں گے؟
کیا ہمیں اس کی وجوہات پر غور نہیں کرنا چائیے
آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے
اس کا سدِباب ناگزیر ہوچکا
ورنہ یہ سانحات ہوتے رہیں گے
چار دن کا ماتم بھی ہوگا
اور پھر کسی افسانے پر بنے ڈرامے کی آخری قسط
پر ایک نئی بحث ہوگی
آٹھ سالہ نور کو اکیلے والدین نے کیوں بھیجا؟
مولوی شمس نے بچے کو سو بار ریپ کیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی آخر کیوں؟
لاہور کی عائشہ مینارِ پاکستان کے ہجوم میں کیوں گئی؟

ہوس کسی کی مجبوری نہیں دیکھتی، نہ عمر دیکھتی ہے نہ جنس دیکھتی ہے چاہے وہ جانور ہو، مدارس میں پڑھنے والے کمسن بچے ہوں، اسکولوں میں اساتذہ کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے طلبہ و طالبات ہو۔
اس معاشرے میں ہونے والی درندگی پر جنگل کے درندے بھی حیران و پریشان ہیں۔
عوامی مقامات،پارک اور فوڈز کی جگہ پر آپکو وہ لفنگوں کا ٹولہ ملے گا جن کی طوفانِ بدتمیزی کی وجہ سے آپ اپنی فیملی کو ایسی جگہ لے کر جانے کا سوچے گے بھی نہیں
ہمارے معاشرے میں اخلاقیات اور حیا کا بہت فقدان ہیں
روز ایسے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں
جن پرانسان شرمندگی کی کسی کھائی میں گِرجاتا ہے
ہمارا قانونی نظام بہت کمزور ہے
اس لئے مجرم ایسے گھناؤنے جرم کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتا۔
اور یہ جو مذہب کا نقاب اوڑھے سفاک بھیڑیے ہیں جو معصوم بچوں کا ریپ کرتے ہیں ان کو تو سرعام پھانسی دینا چاہیئے لیکن بچوں کے ماں باپ کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ پھولوں کی نگہداشت کیسے کرتے ہیں؟
دنیا کے کسی ملک میں بچوں کو اپنے گھر اکیلا نہیں چھوڑا جاتا اور یہ والدین اپنے پھولوں کو بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیتے ہیں۔
اس معاشرے کی بقا ماضی کی شاندار روایات تھی، جب انسانوں کے کردارکی عزت ہوتی تھی دولت یا چمک دمک میں نہیں جب پڑوسیوں کے بچے بھی اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے تھے۔ جب بڑے بوڑھے، اجنبی لوگوں کے ساتھ محلے کے بچے جاتے دیکھ کر روک کرسوال پوچھتے تھے۔ جب کوئی بدمعاش لڑکا اسکول کالج میں کسی چھوٹے کو ستاتا تھا تو کوئی اعلیٰ کردار کا بہادر لڑکا بچاتا بھی تھا۔
وقت آ گیا ہے، کہ ہم اس برائی کو جڑ سے اُکھاڑ کر ختم کردے تاکہ ہر دیکھنے والا پناہ مانگے۔ ہماری ماؤں کو چاہیے آنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کرے، بعد میں ان پر کوئی وظیفے، کوئی دعائیں اور کوئی عبادتیں اثرنہیں کرتی۔
ویسے تو یہاں نہ خواتین محفوظ ہیں اور نہ ہی بچے
انسانوں کے اس معاشرے میں حیوانوں کا راج اور ہوس کے پُجاری بستے ہیں تو اپنا خیال خود رکھیں؛ بچوں کا خیال رکھیں! اکیلے مت نکلیں؛ نکلیں تو رش والا راستہ لیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں